شفیق لغاری کی رپورٹ
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ سب کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا ۔ اس کمیٹی کے کنوینر ندیم عباس ہیں، ممبران میں سحر کامران ، کرن عمران اور کرن حیدر شامل ہیں۔
کنوینر ندیم عباس نے سوال اٹھایا کہ بھاری بجٹ، حکومتی سرپرستی، وسیع نیٹ ورک، جدید سسٹم اور مضبوط مینجمنٹ کے باوجود پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) وہ مقام کیوں حاصل نہیں کر سکا جو اسے ماضی میں حاصل تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی پر ہمیشہ یہ روایتی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس کی کوئی ریٹنگ نہیں اور اسے کوئی نہیں دیکھتا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی وی ایک قومی چینل ہے جس کا مقصد ریٹنگ یا ریونیو بڑھانا نہیں بلکہ ملک و قوم کا پیغام ہر شہری تک پہنچانا ہے، چاہے وہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں ہو اور اس کے پاس ڈش موجود نہ ہو۔
پی ٹی وی میں مبینہ غیر میرٹ بھرتیوں سے متعلق سوال پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایسی تمام بھرتیاں نگران دور حکومت میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی گئیں تھیں اور ان میں سے کسی کا کنٹریکٹ دوبارہ تجدید نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب کنٹریکٹ صرف چھ ماہ یا ایک سال کے لیے اور وہ بھی متعلقہ شعبے کے انچارج کی ضرورت کے مطابق دیا جاتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ پی ٹی وی میں اس وقت 1500 آسامیاں خالی ہیں جن کے لیے جلد اشتہار جاری کیا جائے گا اور بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کے بورڈ میں معروف لکھاریوں اور ادیبوں کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں ہی کیا جائے، نہ کہ وفات کے بعد سیمینار منعقد کر کے۔ اس مقصد کے لیے اصغر ندیم سید، کراچی سے مرزا اختیار بیگ اور بلوچستان سے ایک خاتون کو بورڈ کا رکن بنانے کی تجویز ہے، جن میں سے ایک کو چیئرمین مقرر کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران ایک رکن نے نشاندہی کی کہ ریموٹ پر تلاش کے باوجود بعض اوقات خود پی ٹی وی کے عملے کو بھی پی ٹی وی کا چینل نہیں ملتا، جس پر وزیر اطلاعات نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “اب پی ٹی وی پہچانا نہیں جاتا۔”
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی وی اسپورٹس چینل عام چینل کے مقابلے میں تین گنا زیادہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ انگریزی زبان میں نیا چینل “پاکستان ٹی وی” بھی شروع کیا گیا ہے جس سے پاکستان کی رسائی عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے۔




