اتر پردیش کے ایتہ ضلع میں ایک 10 سالہ لڑکا جمعرات کے روز اپنی والدہ کی لاش اکیلا پوسٹ مارٹم کے لیے لے کر آیا، جو ضلعی اسپتال میں تپِ دق (ٹی بی) اور ایچ آئی وی کے علاج کے دوران انتقال کر گئی تھیں۔ اس کے ساتھ کوئی رشتہ دار موجود نہیں تھا اور نہ ہی پڑوسیوں یا اہلِ خانہ کی طرف سے کوئی مدد ملی۔ لڑکا گھنٹوں لاش کے پاس بیٹھا رہا اور انتظار کرتا رہا، یہاں تک کہ مقامی پولیس نے مداخلت کر کے پوسٹ مارٹم اور آخری رسومات کے انتظامات میں مدد کی۔
لڑکے نے پوسٹ مارٹم ہاؤس کے باہر ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ اس کے والد بھی گزشتہ سال ایچ آئی وی کے باعث انتقال کر گئے تھے۔بچے کا کہنا تھا کہ ابو کو ایڈز ہوا تو سب نے ہم سے بات کرنا چھوڑ دی۔ وہ زندہ تھے تو میں اسکول جاتا تھا، لیکن ان کے انتقال کے بعد مجھے پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ میں ہی امی کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ ان کا علاج ایتہ میں ہو رہا تھا اور انہیں کانپور اور فرخ آباد کے لوہیا اسپتال بھی لے جایا گیا تھا۔ میرے چچا کو تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔
52 سالہ خاتون کو ویرانگنا اوانتی بائی میڈیکل کالج، ایتہ میں داخل کیا گیا تھا۔ وہ بدھ کی رات انتقال کر گئیں۔ جمعرات کی صبح ان کا بیٹا صرف اسپتال کے عملے کے ساتھ، جنہوں نے لاش اسٹریچر پر رکھی پوسٹ مارٹم مرکز پہنچا۔ اسپتال میں موجود لوگوں کے مطابق لڑکا اپنی ماں کی ڈھکی ہوئی لاش کے قریب ہی بیٹھا رہا، اس کی آنکھیں رونے سے سوجی ہوئی تھیں، اور وہ اس وقت تک وہاں سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا جب تک حکام نہیں آ گئے۔
جب اس صورتحال کی خبر پھیلی تو چند دور کے رشتہ دار بالآخر مردہ خانے پہنچے، جن میں ایک چچا بھی شامل تھا جو تقریباً 60 کلومیٹر دور کاس گنج سے آیا تھا۔ تب جا کر لڑکے نے کچھ آرام کیا۔
جیتھرا تھانے کے ایس ایچ او رتیش کمار نے بتایا کہ مقامی پولیس کو رہائشیوں نے اطلاع دی جس کے بعد انہوں نے مداخلت کی۔انہوں نے بتایا: ہمیں اطلاع ملی کہ ایک بچہ لاش کے ساتھ اکیلا ہے۔ میں نے ایک سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل کو موقع پر بھیجا۔ بچے کے پاس کوئی نہیں تھا، اس لیے ہم نے اس کی والدہ کی آخری رسومات کا انتظام کیا۔
ضلعی محکمہ صحت کے حکام نے اس کیس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون نے 2017 میں ٹی بی کا علاج مکمل کر لیا تھا، جس کے بعد انہیں سرکاری سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔
ایتہ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر راجندر پرساد نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہو گئی تھیں اور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ اس وقت ہم نے انہیں حکومت کی جانب سے دی جانے والی تمام سہولتیں فراہم کی تھیں۔ اب ہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔




