دنیا جب کورونا وائرس وبا سے لڑ رہی ہے تو ایسے وقت میں دنیا کے کئی رہنما میڈیا سے الجھتے نظر آ رہے ہیں اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر صحافیوں کی آواز دبا رہے ہیں۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران بھارت میں صحافیوں پر لاٹھی چارج دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح برازیلی صدر اس وبا کو میڈیا کی چال قرار دیتے ہوئے اس پر برس پڑے تھے جبکہ نائجر میں ایک رپورٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
چین کی جانب سے کورونا وائرس وبا بارے معلومات سنسر کرنے کی جاتی ہیں، چین نے کورونا وائرس وبا پر رپورٹنگ کرنیوالے کئی صحافیوں کو ملک سے نکال دیا ہے۔
گزشتہ ماہ وال اسٹریٹ جنرل کی جانب سے چین کو ایشیاء کا بیمار آدمی کہنے پر اس کے تین رپورٹرز کو ملک سے نکال دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے چین کی جانب سے 13 صحافیوں کو ملک سے نکالا گیا۔
واشنگٹن ٹائمز کی 18مارچ کو شائع ہونیوالی خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کورونا وائرس کی کوریج پر میڈیا سے ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کورونا وائرس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔
ان رپورٹس پر صدر ٹرمپ 10 دن پہلے غصہ میں آ گئے تھے مگر آج امریکہ میں اس وائرس کے کیسز ایک لاکھ سے تجاوز کر گئے ہیں اور امریکہ اس کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پوری دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔
کورونا وائرس کا علاج، سوشل میڈیا پر پھیلی افواہ نے 300 ایرانیوں کی جان لے لی
ٹرمپ کے جھوٹ نے ایک شخص کی جان لے لی
عمران خان غیرمنتخب مشیروں کے نرغے میں
مصر کی جانب سے گارڈین کیلئے کام کرنیوالی صحافی کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے کیونکہ اس نے رپورٹ کردیا تھا کہ مصر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق رتھ مائکل سن نامی صحافی مصر سے2014ء سے رپورٹنگ کر رہی تھیں مگر اب کورونا وائرس وبا پر رپورٹنگ میں انہیں وہاں سے جانا پڑ گیا ہے، گارڈین اخبار کی جانب سے مصری حکام کے اس عمل پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
کورونا وائرس وبا کے دوران آزادی صحافت پر ان ممالک میں بھی حملے ہو رہے ہیں جنہیں صحافت کیلئے قدرے بہتر سمجھا جاتا تھا، انڈیکس آن سینسرشپ نامی تنظیم کی جانب سے اس صورتحال کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر جنوبی افریقہ میں حکومت کی جانب سے ماہر وبا، ماہر وائرس اور دیگر ماہرین کو کورونا وائرس پر تبصروں سے روک دیا ہے۔
ایسے وقت میں جب انٹرنیٹ غلط معلومات سے بھرا پڑا ہے ماہرین کو اس وبا پر تبصروں سے روکنا بہت ہی خطرناک عمل ہے۔
اسی طرح سلووینیہ میں تحقیقاتی صحافی بلاز گاگا کو قتل کی دھمکیاں ملی ہیں کیونکہ انہوں نے حکومت سے کورونا وائرس بحران کے دوران حکومتی انتظامات بارے معلومات مانگ لی تھیں۔
کورونا وائرس بارے سوالات اٹھانے پر اس تحقیقاتی صحافی کے خلاف نفرت انگیز مہم بھی چلائی گئی۔
سلووینیہ وہ ملک ہے جس کا آزادی صحافت میں ریکارڈ کافی اچھا تھا۔ یہ ملک ورلڈ فریڈم پریس انڈیکس 2019ء میں 180ممالک میں 34ویں نمبر پر تھا۔
پاکستان میں کورونا وائرس پھیلاؤ کے متعلق سوال اٹھانے پر سینئر صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین چلائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں صحافیوں کی جانب سے پاکستان میں کورونا وائرس پھیلاؤ اور آزادی صحافت بارے سوالات اٹھانے پر وزیراعظم ناخوش نظر آئے۔
تحریک انصاف حکومت پر الزام ہے کہ ایران سے آنیوالے زائرین کو تفتان بارڈر پر قرنطینہ کرنے کے دوران مناسب انتظامات نہیں کئے گئے جس کے باعث کورونا وائرس پاکستان میں پھیلا۔
کورونا وائرس پھیلاؤ بارے سوالات اٹھانے والے ایک سینئر اینکر کا پروگرام بھی بند ہوچکا ہے۔
انڈیکس آن سینسرشپ میگزین کی ڈپٹی ایڈیٹر جمائما سٹینفلڈ کی جانب سے ایک آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ بحران کے وقت میں صحافیوں سے ان کی آزادی کا کچھ حصہ چھن جاتا ہے مگر یہی وہ وقت ہوتا ہے جس میں اچھی، ایماندارانہ، قابل بھروسہ صحافت کی ضروت پہلے سے بہت بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ کورونا وائرس کی اس وبا کے دوران نقل و حرکت اور اجتماع پر پابندی ضروری ہے اور اس عمل سے صحافیوں کیلئے بھی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔
انکی جانب سے اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ وبا کے خاتمہ کے بعد ان پابندیوں کو جاری نہیں رکھا جائے گا۔
