اسلام آباد کے پمز اسپتال میں دو ہفتوں سے کورونا اسکریننگ کی ڈیوٹی کرنے والے ڈاکٹر وسیم اسد نے اس وبا کے حوالے سے کئی بڑے انکشاف کیے ہیں اور حکومت کو اہم تجاویز دی ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ابتدائی طور پر کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے متاثرین کا سفری ریکارڈ معلوم کرنا ضروری تھا مگر اب یہ مقامی طور پر پھیل رہا ہے.
ڈاکٹر وسیم نے زور دے کر کہا کہ جتنی جلدی ممکن ہو اسکریننگ کا معیار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ایسا نہ کیا گیا تو ایک ماہ بعد اسکے نتائج خاموشی سے متاثر ہونے والے افراد کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور یہ بہت ہولناک ہوں گے۔
انکے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے اعداد کم ہونے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں صرف محدود پیمانے پر ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر وسیم نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کی روشنی میں بڑی تعداد میں ٹیسٹ کیے جانے چاہئیں جیسے تمام ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں کیا جا رہا ہے.
کورونا وائرس : بیلاروس کے صدر کا ایسا اعلان جس نے سب کو حیران کر دیا
کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کیا مسائل درپیش ہیں؟
کورونا وائرس: مریضوں کے علاج کیلئے حفاظتی لباس نہیں دیا گیا، پمز کے ڈاکٹرز کا شکوہ
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چاہے بل گیٹس سے امداد آئے یا علی بابا کے جیک ما سے، فوری طور پر بڑے پیمانے پر اسکریننگ شروع کی جائے۔
ڈاکٹر وسیم احمد کے مطابق لوگوں میں ٹیسٹ نہ کرانے کے رجحان کی وجہ منفی مہم، قرنطینہ سے متعلق خوفناک من گھڑت کہانیاں اور کورونا بیماری سے جڑا داغ ہے.
انہوں نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر کورونا مریض کی بدنامی کے حوالے سے چلنے والی منفی مہم کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ قرنطینہ میں سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا ہوگا.
ڈاکٹر وسیم نے دعویٰ کیا کہ حکومت حقائق کو چھپا کر اور غلط اعداد و شمار بتا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرح شعبدہ بازی کر رہی ہے اور یہ حکومت بھی صرف فوٹو سیشن کے ذریعے تاثر دے رہی کہ سب اچھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آخرکار یہ سب غلطیاں وزیر اعظم عمران خان کے لیے بہت نقصان دہ ہوں گی۔
پمز کے ڈاکر کے مطابق وزیراعظم کو روزانہ کی بنیاد پر صحافیوں کو بلا کر بریفنگ دینے کے بجائے انہیں طبی ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر کوئی کارگر منصوبہ بندی کرنی چاہیے کیونکہ اس معاملے کو زیادہ دیر تک نہیں چھپایا جا سکتا۔
انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ حکومت طبی عملے کو مناسب انداز میں استعمال نہیں کر رہی بلکہ ہر کسی کو مناسب آلات نہ ہونے کی وجہ سے کورونا وائرس کا شکار کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم اور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ حل کرنے کی زحمت ہی نہیں کر رہے اور نوجوان ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر سٹاف کی کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔
پاکستانی حکومت بھی اٹلی کی بھیانک غلطیاں دہرا رہی ہے ؟ قسمت خان کی ریسرچ
کورونا وائرس کا علاج کرنے والے برطانوی ڈاکٹر کی درد بھری داستان
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ دن دور نہیں جب تمام طبی فورس متاثر ہوگی اور اسپتال چلانے کے لیے کوئی بھی موجود نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر وسیم نے کہا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف جرم پر تاریخ حکومت کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طبی عملے کو چینی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے بچایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو سیلوٹ نہیں، آلات دیے جائیں، کیونکہ اگر وینٹیلیٹرز آپریٹ کرنے والا عملہ متاثر ہو کر قرنطینہ میں پڑا ہو گا تو ان قیمتی آلات کا کوئی فائدہ عوام کو نہیں ہو گا۔
انہوں نے سماجی فاصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے طاقت کے استعمال کی بھی تجویز پیش کی۔
