پنجاب میں قرنطینہ سنٹر اور علاج کی جگہ سے بھاگنے یا فرار ہونے کی کوشش کرنے والوں کو چھ ماہ قید،50ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے وبائی مرض سے تحفظ اور پھیلاؤ روکنے کا آرڈیننس جاری کر د یا گیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق قرنطینہ سنٹر یا علاج کی جگہ سے فرار ہونے یا پھر بھاگنے کی کوشش کرنے والوں کو پہلی دفعہ 6 ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دوسری مرتبہ ایسی کوشش کی صورت میں ڈیڑھ سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔
آرڈیننس کے مطابق کسی وباء کے پھیلاؤ کی صورت میں تمام غیر سرکاری ڈاکٹرز اور پرائیویٹ اسپتالوں کو وبائی امراض کے مریضوں کو سنبھالنے اور ان کا علاج کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
کورونا وائرس، پنجاب حکومت نے جزوی لاک ڈاؤن کا حکم جاری کر دیا
پاکستان کورونا کا مقابلہ کیسے کرے؟ چینی نوجوانوں کے اردو میں ویڈیو پیغامات
طبی ماہرین نے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کورونا کی نئی لہر کا خدشہ ظاہر کر دیا
اسی طرح پنجاب حکومت کہیں بھی، کسی بھی طرح کی پابندی عائد کر سکتی ہے، بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے اور لوگوں کو اجتماعات میں جانے سے روکا جا سکتا ہے۔
نئے آرڈیننس کے تحت حکومت کو جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کو سنبھالنے، تدفین اور منتقلی سے متعلق پابندیاں لگانے کا اختیار حاصل ہوگا۔
کسی بھی بیمار یا بیماری پھیلانے والے شخص کی مخصوص جگہوں پر منتقلی اور وہاں رکھنے کا اختیار بھی حکومت کو حاصل ہو گا، عوام الناس کی کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ اسکریننگ کرائی جا سکے گی۔
اس آرڈیننس کے مطابق کسی ایک شق کی خلاف ورزی پر دو ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہو گا جبکہ ایک سے زائد بار خلاف وزری پر 6 ماہ قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔
کسی ادارے کی خلاف ورزی پر پہلی مرتبہ دو لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا اور ایک سے زائد مرتبہ خلاف ورزی پر تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔
