وزیراعظم عمران خان کی تشکیل کردہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر عطاالرحمان نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کی کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے سے متعلق کوششیں ابھی ناکافی ہیں کیونکہ متاثرہ افراد کا مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کرنا ہونگے ورنہ صورتحال کنٹرول سے باہر ہونے کا خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل رہا ہے اور امریکہ جیسا معاشی طور پر طاقتور ملک بھی اس وائرس پر قابو نہیں پا سکا۔
پاکستان میں کورونا کے 46 نئے کیسزسامنے آ گئے، ایک اور مریض جاں بحق
کورونا وائرس: پاکستان میں ایک لاکھ افراد کیلئے صرف ایک وینٹی لیٹر
کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کیا مسائل درپیش ہیں؟
ہیلتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پمز کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بھی مشتبہ افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ کورونا کی جنگ سے لڑنے کے لیے ہمیں جنوبی کوریا کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا۔
جنوبی کوریا کی آبادی پاکستان کی کل آبادی کا 25 فیصد ہے لیکن وہ 51 لاکھ لوگوں میں سے 5لاکھ لوگوں کے ٹیسٹ کر چکا ہے اور پاکستان نے اب تک صرف دو ہزار ٹیسٹ کئے ہیں جبکہ مشتبہ مریضوں کی تعداد 15 ہزار سے زائد ہوسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروسن اذںوم نے کچھ ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس جان لیوا وائرس کے کنٹرول کے لیے کچھ زیادہ کوششیں نہیں کر رہے۔
