کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں دنیا بھر کے معاملات رک گئے وہاں بچوں کو گھروں میں محصور رکھنا والدین کےلیے درد سر بن گیا ہے۔
دنیا بھر کے والدین لاک ڈاؤن کے دوران اپنے بچوں کی شرراتوں اور ناجائز مطالبات کی وجہ سٹپٹا گئے ہیں، متعدد والدین باقی معاملات چھوڑ کر اپنے بچوں کو باہر نکلنے سے روکنے کے لیے ڈانٹ ڈپٹ کا بھی سہارا لے رہے ہیں۔
بہت سے ماں باپ سوشل میڈیا پر بچوں کو گھر وں میں پابند کرنا مشکل ترین کام قرار دے رہے ہیں، ان کے مسلسل شور شرابے اور شرارتوں سے بڑی عمر کے بزرگ، جن میں دادا، دادی، نانا، نانی شامل ہیں، بہت تنگ ہیں۔
بعض اوقات ماں باپ کے سخت پہرے کے باوجود بچے چپکے سے باہر نکلنے سے کامیاب ہو جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر میں بچوں کو چارپائی پر باندھ کر روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن بچے پھر بچے ہیں۔
کئی باہر نہ جانے کی شرائط عائد کرتے ہوے ماں باپ سے مختلف مطالبات بھی منوانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
یوکرائن کی ایک ماں نے سوشل میڈیا پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے ایک ماہ بڑھانے سے بچوں کو گھر میں کنٹرول کرنا دنیا کا مشکل ترین کام بن چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ میری دس سالہ بیٹی باہر کھیلنے سے روکنے پر کھانا نہ کھانے کی ضد کرتی ہے اور پھر اس شرط پر مان جاتی ہے کہ میں اس کو کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے کی مکمل آزادی دوں۔
پاکستان میں بھی بچوں نے بلیک میلنگ کر کے والدین کی جیبوں کا صفایا کرنا شروع کر دیا ہے، اگر ان کی بات نہ مانی جائے تو وہ باہر جانے کی دھمکی دے جاتے ہیں۔
بہت سی جگہوں پر بچوں کے گھر میں رہنے سے ماں باپ میں لڑائیاں شروع ہیں، مشترکہ خاندانی نظام میں ان کی شرراتوں کی وجہ سے والدین میں سرد جنگیں جاری ہیں۔
والدین اس وقت خدا سے دعائیں کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس سے جلد چھٹکارا دے تاکہ ہم اپنے بچوں کی بلیک میلنگ سے بچ سکیں۔
