امریکہ کے سب سے بڑے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فوکی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ہاتھ ملانا ماضی کی روایت بن کر رہ جائے گا۔
دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 87 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں کورونا کی وجہ سے 15 ہزارکے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور 4 لاکھ 32 ہزار افراد اس سے متاثر ہیں۔
کورونا سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو ہجوم میں جانے سے منع کیا گیا ہے اور سماجی فاصلہ قائم کرنے کی بھی سختی سے ہدایت کی گئی ہے، اسی طرح مصافحہ کرنے اور گلے ملنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
کورونا وائرس نوجوانوں کیلئے بھی مہلک، امریکہ میں سینکڑوں نوجوان ہلاک
سب کو گھروں میں رہنے کی تلقین کرنیوالے میئر کی اپنی بیوی شراب خانہ میں پکڑ ی گئی
شہید یا ہیرو: وبا کے دنوں میں ڈاکٹرز مریضوں کو بچائیں یا خود کو؟
سن کلیئر براڈ کاسٹ گروپس کے رپورٹر سکاٹ ٹھمن سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر انتھونی فوکی کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کورونا مریضوں کی تعداد میں شدت سے اضافہ جاری ہے اور یہی وجہ ہے کہ آنے والے وقت میں امریکہ میں ایک دوسرے کو ملتے وقت ہاتھ ملانے کی روایت ختم ہو کر ماضی کا حصہ بن کر رہ جائے گی۔
ان سے سوال کیا گیا کہ امریکہ میں حالات نارمل کب ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ آپ کے نزدیک نارمل کا مطلب کیا ہے؟
ڈاکٹر انتھونی فوکی نے کہا کہ ہمیں مصافحہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس روایت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سانس سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہاتھ ملانے کی وجہ سے منتقل ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کورونا کی وبا کے دوران برطانیہ میں لوگوں سے ہاتھ ملانے سے اجتناب نہیں کیا اور خود اسی وبا کا شکار ہو کر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں جا پہنچے جہاں ان کی حالت تشویشناک حد تک خراب بتائی گئی تاہم انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل نہیں کیا گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ امریکہ میں اگر ہاتھ ملانے کی روایت ختم ہو جائے گی تو پھر امریکی لوگ ایک دوسرے کو ملتے وقت کون سی روایت قائم کریں گے۔
کیا وہ صرف زبانی ہیلو ہائے کریں گے یا دور سے ہی ایک دوسرے کے سامنے سر جھکانے کی روایت قائم ہو جائے گی؟ بہت سے امریکی پہلے ہی ہاتھ ملانے کو پسند نہیں کرتے، وہ سمجھتے ہیں کہ عام طور پر لوگوں کے ہاتھ صاف نہیں ہوتے ہیں اس لیے اس روایت سے گریز کرنا چاہیے۔
