برطانیہ کے شہر یارک کے شمشان گھاٹ میں کورونا وباء سے جاں بحق ہونیوالے افراد کی آخری رسومات روک دی گئی ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ خاندان شدید افسردگی کا شکار ہیں۔
سٹی کونسل یارک نے کہا ہے کہ شمشان گھاٹ میں خدمات روکنا ایک مشکل فیصلہ تھا، انہوں نے کہا کہ پہلے سے طے شدہ آخری رسومات جاری رہیں گی جس کی مختصر فلم لواحقین کو فراہم کی جائے گی۔
حکومت کے جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق اب بھی آخری رسومات ادا کی جا سکتی ہیں تاہم اسے خاندان کے چند افراد تک محدود ہونا چاہیے۔
مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ ہیووڈ نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ کو پتہ چلا ہے کہ پہلے سے طے شدہ ایک قریبی رشتہ دار کی والدہ کی آخری رسومات اب یارک میں ادا نہیں کی جائیں گی۔
قربانی اور ایثار کی دیوی، برطانوی نرس اریمہ نسرین جان کی بازی ہار گئیں
کورونا وائرس کی تباہی، ایکواڈور کے ایک شہر کی گلیوں میں لاشیں نظر آنے لگیں
اسرائیل کا راسخ العقیدہ طبقہ کس طرح کورونا وائرس پھیلا رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ خاندان کے کسی فرد کے بغیر جنازوں کی ادائیگی اب بھی جاری ہے۔
سو کروسبی، جس کی والدہ 2 اپریل کو وفات پا گئی تھیں، کو بتایا گیا تھا کہ ان کی والدہ کی آخری رسومات میں دس سوگواران شریک ہوسکتے ہیں تاہم بعد میں شمشان گھاٹ کے ڈائریکٹر نے ایک اور جگہ پر آخری رسومات کا انتظام کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ اب صرف خاندان ہی اس میں شرکت کر سیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تصور بھی دل ہلا دینے والا ہے کہ ہماری خوبصورت ماں اور پیاری دادی کو قبرستان میں چند اجنبی لوگوں کی موجودگی اور صرف ایک گیت کے ساتھ دفنا دیا جائے گا۔
یارک کے پبلک ہیلتھ کے ڈائریکٹر شیرون اسٹولٹز نے کہا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد کورونا وباء کے پھیلاؤ کو خطرے کو روکنا ہے اور یہ درست فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندان اور دوست ہماری زندگیوں میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ یہ بہت سارے لوگوں کے لیے واقعی بہت مشکل ہو گا جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھودیا ہے۔
