ایک نئی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس پہلے مصدقہ مریض کے سامنے آنے سے ہفتوں پہلے نیویارک میں پھیلنا شروع ہو گیا تھا اور یہ ایشیا کے بجائے یورپ سے آنے والے مسافروں کے ذریعہ منتقل ہوا۔
آئکاہن سکول آف میڈیسن میں جینیاتی ماہر ہارم وین بیکل اس تحقیق کے مصنفیں میں سے ایک ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ ان مسافروں کی اکثریت کا تعلق واضح طور پر یورپ سے تھا۔
اسی طرح گراس مین سکول آف میڈیسن کی ایک اور ٹیم نے مختلف گروپوں کے کیسز کا مطالعہ کیا اور ان کی تحقیق بھی بالکل اسی نتیجے پر پہنچی ہے۔
دونوں ٹیموں نے نیویارک میں کورونا وبا سے مارچ میں متاثر ہونے والے افراد کے خلیوں پر تحقیقات کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اس تحقیق میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اگر ایک جارحانہ ٹیسٹنگ پروگرام شروع کر دیا جاتا تو خاموشی سے پھیلتی اس وبا کا پتہ چل سکتا تھا۔
کورونا وائرس نوجوانوں کیلئے بھی مہلک، امریکہ میں سینکڑوں نوجوان ہلاک
کورونا وائرس کے باعث امریکہ شدید بیروزگاری کے چنگل میں
31 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے ماضی قریب میں چین کا دورہ کرنے والے غیر ملکیوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کی تھی۔
کورونا وائرس خلیے پر حملہ کر کے اس کے مالیکیول کی مشینری پر حاوی ہو جاتا ہے، اس کے نتیجے میں نئے وائرسز کی پیدائش شروع ہو جاتی ہے۔
جنوری میں چینی اور آسٹریلوی محققین پر مشتمل ایک ٹیم نے نئی وائرس کا پہلا جینوم شائع کیا تھا، اس کے بعد اب تک دنیا بھر کے محققین نے تین ہزار مزید جینوم شائع کیے ہیں۔
ان میں سے کچھ جینیاتی طور پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے جبکہ دیگر منفرد میوٹیشن کے مالک تھے۔
امریکہ میں کورونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر نیو یارک ہے جہاں بدھ کے روز صرف ایک دن میں کورونا سے 779 اموات ہوئی ہیں جسکے بعد نیو یارک اسٹیٹ میں کل ہلاک شدگان کی تعداد 6268 ہو گئی ہے جو 9/11 حملے میں مرنے والے افراد سے دگنی بنتی ہے۔
