پورے امریکہ میں کورونا وبا کے دوران لوگ گھروں میں قید ہیں اور تنہائی میں دل بہلانے کے لیے عارضی طور پر کتوں کو اپنانے کا رجحان بڑھ گیا ہے، یہی وجہ ہےکہ پالتو جانوروں کے شیلٹرز کو بھیجی جانیوالے درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔
نیویارک شہر میں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے مراکز نے فوسٹرنگ پروگرام کے لیے دستیاب دو سو سلاٹس کے لیے کال کی تو اس کے لیے دو ہزار افراد نے اپلائی کیا۔
سنٹر کی ترجمان کیٹی ہینسن کا کہنا تھا کہ اس وقت اتنے بڑے اضافے کی وجہ یہ ہے کہ نیویارک شہر میں لوگ جانور اس لیے نہیں پالتے کہ وہ گھر پر موجود نہیں ہوتے ، لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ جانوروں کو وقت نہیں دے سکتے تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔
اب اگرچہ کورونا وباء کی وجہ سے لوگوں کو اگلے کئی ہفتے گھروں میں گزارنے ہیں تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ گھر تنہائی میں وقت بتانے سے بہتر ہے اس دوران ان کے پاس ایک اچھا ساتھی ہونا چاہیے۔
کورونا وبا کا خوف: امریکہ میں مصافحہ کرنے کی روایت کا خاتمہ ہو سکتا ہے
کورونا وائرس: خوف کی تاریک وادیوں میں امید کی کرنیں
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
زیادہ تر امریکیوں کو کورونا جیسی جان لیوا وباء سے بچنے کے لیے شراب خانوں ، ریسٹورنٹس سے دور رہنے اور انہیں دفاتر کے لیے گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کنساس سٹی میں کے سی پٹ پراجیکٹ کو چار دنوں میں فوسٹر پیٹس کے لیے 250درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس مرکز کی ترجمان توری فوگیٹ کا کہنا ہے کہ عام طور پر 10 جانوروں کے لیے بھی درخواستیں آ جائیں تو وہ مرکز کے لیے اچھا دن سمجھا جاتا ہے۔
فوگیٹ کا کہنا ہے کہ لوگ چار سے چھ ہفتوں کے لیے کتے مانگ رہے ہیں۔ ہینسن کے مطابق فوسٹرنگ بھی ڈیٹ مارنے کے مترادف ہے۔ اس کے مطابق آپ اپنے گھر میں ایک پالتو جانور لاتے ہیں اور اس کے لیے طویل مدتی معاہدہ بھی نہیں کرتے ، اور اس دوران آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ گھر میں اس کا کیا رویہ ہے۔
جبکہ موجودہ وبائی مرض کے دوران کسی نئے شخص سے ملنا خطرناک ہو سکتا ہے لٰہذا محدود وقت کے لیے جانور کو گھر لا کر پالنا آپ کو کم خطرے میں ڈالتا ہے۔
مین ہٹن کی رہائشی ٹیچر ربیکا ایپلابم گھر میں اکیلی رہتی ہیں اور انہوں نے اپنا وقت بہتر طریقے سے گزارنے کے لیے بلی کے بچوں کی جوڑی پال رکھی ہے۔
وہ کہتی ہیں انہیں روزانہ کھانا کھلانا مجھے متحرک رکھتا ہے، وباء کے دنوں میں ان کا ساتھ مجھے اچھا لگتا ہے ،یہ گھر پر پیاری حرکتیں کرتے رہتے ہیں اور میں ان کے ساتھ باتیں کرتی رہتی ہوں ،جس سے وقت اچھا جارہا ہے۔
