ایک صدی قبل پہلی جنگ عظیم کے دوران دنیا میں ’اسپینش فلو‘ نامی وبا نے تباہی مچائی تھی جس میں 5 کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ کورونا وائرس وبا کی طرح اسپینش فلو کا علاج یا ویکسین نہ ہونے کے باعث اس سے ہر شعبہ زندگی کے لوگ متاثر ہوئے۔ ان میں سے کئی اس وبا سے لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار بیٹھے مگر چند مشہور شخصیات ایسی تھیں جو اس وبا کا شکار ہو نے کے باوجود زندہ رہ گئیں۔
1۔ ووڈرو وِلسن
امریکی صدر ووڈرو ولسن جنگ عظیم اول خاتمہ کی کوششوں کے دوران ہی وبائی فلو کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ اسپینش فلو وبا سے اسقدر بیمار ہوئے کہ انکے ڈاکٹروں نے سمجھا تھا کہ انہیں زہر دیا گیا ہے۔ انکے معالجوں کی جانب سے امریکی صدر کی بیماری کو چھپانے کی کوششیں کی گئیں مگرجب صحت یابی کے بعد وِلسن جنگ عظیم اول کے متعلق ہونے والے مذاکرات میں شرکت کیلئے گئے تو لوگوں نے انہیں کمزور پا کر انکی صحت پر تبصرے کئے۔
2۔ ڈیوڈ لائڈ جارج
ڈیوڈ لائڈ جارج برطانیہ کے وزیراعظم تھے، وہ بھی اس وبا کا شکار ہوئے لیکن پھر صحتیاب ہو گئے، انہوں نے برطانوی تاریخ کی چند اہم اصلاحات کیں۔
3۔ فرینکلن ڈی روزولٹ
امریکی صدر بننے سے قبل فرینکلن ڈی روزولٹ ’اسپینش فلو‘ کا شکار ہوگئے تھے۔ بطور اسسٹنٹ سیکرٹری نیوی وہ دو ماہ یورپ میں رہے اور واپسی پر بیمار پڑ گئے۔ جب وہ امریکہ واپس پہنچے تو انہیں ایمبولنس میں لے جانا پڑا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق فرینکلن ڈی روزولٹ کو ہلکے نمونیےے جیسی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔
4۔ مہاتما گاندھی
مہاتما گاندھی بھی دنیا کے ان معروف افراد میں شامل ہیں جو وبائی فلو کا شکار ہو کر زندگی کی بازی جیت گئے تھے۔ جب وہ بیمار پڑے تو اس وقت گجرات میں رہتے تھے۔ وبا کے دوران انہوں نے ایک دوست کو بتایا تھا کہ زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بیماری کے دوران انہوں نے ڈاکٹروں کے مشورے نظرانداز کر دیے تھے۔ ’پراجا بندھو نامی اخبار‘ نے ڈاکٹروں کے مشورے نا ماننے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھاکہ ”گاندھی کی زندگی بھارت کی زندگی ہے۔“
5۔ فرانز کافکا
20ویں صدی میں ادب کے بڑے نام فرانز کافکا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زندگی بھر اپنی صحت کو لے کر پریشانیوں میں رہے۔ 1917 میں ان میں ٹی بی کی علامات ظاہر ہو گئیں۔ 1918 میں انہیں وبائی فلو چمٹ گیا جس سے ان کی صحت مزید بگڑ گئی۔ بیماریوں کے باعث وہ کئی برس تک ٹھیک طرح سے کام نہ کر سکے۔ وبائی فلو سے بچ گئے مگر ان کا ٹی بی بگڑ گیا اور 1924 میں 40 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
6۔ میری پِک فورڈ
خاموش فلموں کے عہد کی بڑ ی اداکارہ میری پِک فورڈ جنوری 1919 میں وبائی اسپینش فلو کا شکار ہوئیں۔ وہ اس وقت کی مقبول ترین اداکار ہ تھیں۔ اس وقت کے اخبارات انکی صحت یابی میں پیش رفت بارے رپورٹ کرتے تھے۔
7۔ ٹی ایس ایلیٹ
مشہور شاعر ٹی ایس ایلیٹ اور انکی اہلیہ دسمبر 1918 میں اسپینش فلو وبا کا شکار ہوئے۔ ایلیٹ بیماری سے شفایاب ہوئے تو اپنی بہترین سمجھی جانیوالی نظم ’دا ویسٹ لینڈ“ لکھی۔
8۔ کِنگ جارج
کنگ جارج کے بڑے بھائی البرٹ وکٹر 1892ء کی وبا میں ہلاک ہوئے تو کنگ جارج کو بادشاہ بننے کا موقع ملا تھا۔ برطانیہ کے 52 سالہ کنگ جارج مئی 1918 میں اسپینش فلو وبا کا شکار ہو گئے۔ وہ اس بیماری سے صحت یاب ہوئے اور 1936ء تک زندہ رہے۔
9۔ جان سٹین بیک
امریکی نوبل انعام یافتہ لکھاری جان سٹین بیک 1918 میں 16 برس کی عمر میں اسپینش فلو کا شکار ہو گئے تھے۔ اس بیماری سے انکی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ ان کے متاثرہ پھیپھڑوں تک رسائی کیلئے معالج کو انکی ایک پسلی ہٹانا پڑی تھی۔ اگرچہ سرجری سے ان کی زندگی بچ گئی تھی مگر وہ بقیہ زندگی پھیپھڑوں کے مسائل کا سامنا کرتے رہے۔
10۔ جارج کلیمنسو
جنگ عظیم اول کے دوران فرانس کے وزیراعظم جارج کلیمنسو بھی اسپینش فلو کا شکار ہوئے تھے۔ انہیں ٹائیگر کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ فروری 1919 میں انہیں گولی مار کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی جس سے وہ بچ گئے، بعد ازاں وہ وبائی فلو میں مبتلا ہو گئے تاہم اس سے بھی بچ گئے۔
11۔ ولہم دوئم
جنگ عظیم اول کے دوران جرمنی کے حکمران ولہم دوئم کو اس بات پر یقین تھا کہ اسپینش فلو وبا فرانسیسی سپاہیوں کو ختم کردے گی جس سے جرمنی کو جنگ جیتنے میں مدد ملے گی۔ مگر اس بیماری نے فرانسیسی فوج کے ساتھ ساتھ جرمن فوج پر بھی حملہ کر دیا اور ولہم دوئم خود اس کا شکار ہوگئے۔ اگرچہ وہ اس بیماری سے بچ گئے مگر یہ کہا جاتا ہے کہ انکی اہلیہ اس بیماری کا شکار ہو کر رخصت ہو گئیں۔
12۔ کنگ آف اسپین الفونسو
جنگ عظیم اول کے دوران اسپین نیوٹرل تھا، اس کے بادشاہ الفونسو مئی 1918 میں وبائی فلو کا شکار ہوئے۔ انہوں نے وزیراعظم انتونیو مورا کو بھی وائرس لگا دیا جس کے بعد انہیں قرنطینہ کر دیا گیا تھا۔
چونکہ اسپین کے بادشاہ کی بیماری کو شروعات میں میڈیا نے رپورٹ کیا اس لئے دنیا نے یہی سمجھا کہ وبائی فلو کا آغاز اسپین سے ہوا ہے اور اس وبا کو ”اسپینش فلو“ کہا جانے لگا۔ ریسرچرز کا اب کہنا ہے کہ ایک صدی قبل کی اس وبا کا آغاز اسپین کی بجائے فرانس سے ہوا تھا۔
