بھارت کی 48 سالہ اسکول ہیڈ مسٹریس رضیہ بیگم نے دوسری ریاست میں پھنسے اپنے بیٹے کو واپس لانے کے لیے سکوٹری پر تین دن تک 14 سو کلومیٹر کا سفر طے کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران ممتا کی اعلیٰ مثال قائم کر دی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خاتون کا بیٹا لاک ڈاؤن کے نتیجے میں آندھراپردیش ریاست کے شہر نیلور میں پھنس گیا تھا جسے وہ ایک طویل سفر کے بعد واپس لے آئی۔
رضیہ بیگم مقامی پولیس کی اجازت سے بیٹے کو گھر لانے کے لیے پیر کے روز اپنی سکوٹری پر اکیلی روانہ ہوئیں اور بدھ کی شام 14 سو کلومیٹر سفر طے کر کے بیٹے کے ساتھ واپس گھر پہنچ گئیں۔
رضیہ بیگم نے بتایا کہ دو پیہوں والی چھوٹی سی سکوٹری پر ایک خاتون کیلئے اتنا لمبا سفر یقینا مشکل تھا لیکن دور دراز علاقے میں پھنسے اپنے بیٹے کو واپس لانے کی خواہش نے اس مشکل پر بھی قابو پا لیا۔
بھارت میںلاک ڈاؤن بیروزگاری، اموات، ہجرت اور بھوک کی دردناک داستان بن گیا
بھارت میں لاک ڈاؤن سے دنیا کی آلودہ ترین فضائیں صاف ہو گئیں
یورپ میں لاک ڈاؤن کم کرنے کا آغاز، معاشی سرگرمیاں شروع ہونے کا امکان
انہوں نے بتایا کہ روانہ ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھ کھانے کیلئے روٹیاں باندھ لی تھیں جن پر سفر کے دوران گزارہ کرتی رہیں۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو انہوں نے بتایا کہ وہ راتوں کو خوفزدہ بھی ہوئیں جب اتنے لمبے سفر کے دوران سڑکوں پر گاڑیاں تھیں اور نہ ہی لوگ نظر آ رہے تھے۔ رضیہ بیگم حیدر آباد سے دو سو کلو میٹر دور نظام آباد کے ایک سرکاری سکول میں ہیڈ مسٹریس ہیں۔
ان کے خاوند 15 برس قبل وفات پا گئے تھے، وہ اب اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، ان کا ایک بیٹا انجینئرنگ گریجویٹ جبکہ 19 سالہ نظام الدین ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھتا ہے۔
نظام الدین اپنے دوست کو چھوڑنے کے لیے 12 مارچ کو نیلور کے علاقہ رحمت آباد گیا، اسی دوران لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا اور وہ وہیں پھنس کر رہ گیا۔
رضیہ بیگم دوسری ریاست میں پھنسے اپنے بیٹے کی گھر آنے کی خواہش پر دل گرفتہ ہو گئیں اور خود ہی اسے لانے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے کو اس لیے نہیں بھیجا کہ انہیں خدشہ تھا کہ پولیس اسے حراست میں نہ لے لے۔
رضیہ بیگم نے ابتدائی طور پر کار پر جانے کا سوچا تاہم ذہن تبدیل کرتے ہوئے اپنی دو پہیوں والی سکوٹری پر سفر کا آغاز کر دیا۔
نظام الدین نے حال ہی میں انٹر میڈیٹ پاس کیا ہے اور وہ اب ایم بی بی ایس کے داخلہ امتحان کے لیے کوچنگ کلاسز لے رہا ہے۔
