کورونا وبا کےحوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ وبا کی ویکسین تیار ہونے تک دنیا بھر میں لاک ڈاؤن جاری رہنا چاہیے۔
طبی رسالے دی لینسٹ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں معمولات زندگی پر شدید نوعیت کی پابندیوں نے ملک کے زیادہ تر حصوں میں کورونا وبا کی پہلی لہر کو روکے رکھا۔
محققین نے تحقیقات میں ریاضیاتی ماڈلنگ کو استعمال کیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ حفاظتی اقدامات اور لاک ڈاؤن قبل از وقت ختم کرنے کے نتیجے میں وبا کی دوسری لہر اٹھ سکتی ہے۔
چینی حکام نے بدھ کے روز ووہان شہر، جہاں سے وائرس پھیلنے کا آغاز ہوا اور پھر اس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، میں 76 ایام بعد لاک ڈاؤن ختم کیا تاہم ابھی کچھ پابندیاں وہاں موجود ہیں۔
یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے پروفیسر جوزف ٹی وو نے کہا ہے کہ حفاظتی اقدامات نے وبا کے پھیلاؤ کو محدود کر کے متاثرین کی تعداد انتہائی کم رکھی تاہم ایسے کیسز کا حملہ باآسانی دوبارہ سے ہو سکتا ہے کیونکہ کاروبار، فیکٹریاں، اسکول اور دیگر ادارے آہستہ آہستہ کھل رہے ہیں، ایسے میں وائرس بیرون ملک سے آ سکتا ہے کیونکہ یہ اب دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔
سی این این کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت پابندیاں آہستہ آہستہ ختم نہیں کرتی اور پھیلاؤ کی نگرانی جاری نہیں رکھتی تو وبا کی رفتار بہت تیز ہو گی۔
یورپ میں لاک ڈاؤن کم کرنے کا آغاز، معاشی سرگرمیاں شروع ہونے کا امکان
14 اپریل سے تعمیراتی شعبے کے لیے لاک ڈاؤن ختم کر دیںگے، عمران خان
دنیا کو ایک طویل عرصے کے لاک ڈاؤن کے لیے تیار رہنا چاہیے
مختلف ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیسے پابندیوں میں نرمی کر کے اپنی معیشت کو دوبارہ اٹھایا جائے، ایسے ماحول میں یہ تحقیق اہم ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے اخذ کردہ نتائج میں کہا گیا ہے کہ غلط فیصلے سے کورونا مزید پھیل سکتا ہے جسکے بعد نئی پابندیوں کا نفاذ ہو گا جو طبی سہولیات اور معیشت کے لیے انتہائی ہولناک ہو گا۔
آسٹریا نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ ایسٹر کے بعد لاک ڈاؤن کو بتدریج ختم کرے گا۔ آسٹریا یورپی ممالک میں سے ایک ہے جو پابندیوں میں نرمی لانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔
جرمنی میں ماہر ین معاشیات اور طب سمیت وکیلوں کی جانب سے ہورپ کی سب سے بڑی معیشت کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں جن کی تجاویز ہیں کہ وبا کے دوبارہ پھیلاؤ کے خلاف احتیاطی تدابیر کرنے سمیت مخصوص صنعتوں کو کھولا جائے اور ملازمین کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔
درجن بھر کے قریب ماہرین تعلیم نے انسٹیٹیوٹ آف اکنامک ریسرچ کی جانب سے گزشتہ ہفتے شائع کی گئی رپورٹ میں بتایا گی یے کہ انہیں 2021 تک انسدادِ کورونا کی ویکسین بننے کی امید نہیں۔
برطانوی حکومت 3 ہفتے تک لاک ڈاؤن کے بعد اب اپنی پالیسی پر نظرثانی کر رہی ہے مگر لندن کے مئیر صادق خان نے گزشتہ روز کہا کہ ابھی پابندیوں میں نرمی کا کوئی امکان نہیں۔
برطانوی معیشت پر نظر رکھنے والے ماہرین کی تجویز ہے کہ سب سے پہلے ان2.4 ملین نوجوانوں کو کام پر جانے کی اجازت ملنی چاہیے جو جو اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہتے۔
لاک ڈاؤن جلد ختم کرنے کے اثرات کچھ شعبوں پر بہت زیادہ سخت ہونگے۔ لینسٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چین کے مختلف حصوں میں کورونا سے ہلاک شدگان کی شرح کافی مختلف ہے اور کیونکہ مختلف شہروں میں معیشت اور طبی سہولیات مختلف نوعیت کی ہیں۔
تحقیق میں شامل پروفیسر گیبرائیل ایم لیونگ نے لکھا کہ بیجنگ اور شنگھائی جیسے خوشحال ترین بڑے شہروں میں طبی سہولیات کے وسائل اختتام پر ہیں اور اسپتالوں کو طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں گی۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ کورونا وبا سے اموات کو کم سے کم کرنے کے لیے مقامی ہیلتھ کیئر سسٹم، عملے اور وسائل کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 4 شہروں اور 10 صوبوں کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ اقدامات بتدریج ختم ہونے چاہیے ورنہ کیسز کی تعداد پھر سے بڑھ جائے گی۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک دفعہ کیسز میں تیزی آ گئی تو اسے واپس اپنی جگہ پر لانا تقریباً ناممکن ہوگا جسکے لیے انتہائی زیادہ کوششوں کی ضرورت ہوگی اور اس سے معیشت اور نظام صحت پر اثرات مرتب ہونگے۔
مذکورہ یونیورسٹی کی رپورٹ میں معاونت کرنے والے ایک اور ماہر ڈاکٹر کیتھی لیونگ نے واضح طور پر لکھا کہ آنے والے ہفتوں میں چین میں معاشی سرگرمیاں بڑھنے جا رہی ہیں جس سے مقامی یا باہر سے آئے ہوئے انفیکشن ایک بار پھر ملک میں وبا پھیلا سکتے ہیں۔
