کورونا وائرس وبا پر قابو پانے کیلئے ایپل اور گوگل کی جانب سے اسمارٹ فون ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کی دو بڑی حریف کمپنیوں کی جانب سے مشترکہ طور پر آئی فون اور اینڈرائڈ فونز کو کورونا وائرس کے خلاف ہتھیار میں تبدیل کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق ایپل اور گوگل کی جانب سے اسمارٹ فونز میں ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی جس کی مدد سے لگ بھگ تین ارب لوگوں کے رابطوں کی کھوج کو ممکن بنا کر کورونا وائرس کی روک تھام میں مدد مل سکے گی۔
دونوں کمپنیوں کی جانب سے ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی جو فون استعمال کرنے والوں کو کسی کورونا وائرس مریض کے رابطہ میں آنے پر الرٹ جاری کرے گی۔
”کنٹیکٹ ٹریسنگ“ کے نام سے جانی جانیوالی اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ ایسے صارفین کو الرٹ جاری کئے جائیں گے کہ وہ خود کو قرنطینہ کرلیں۔
ان پانچ ایپس کو اپنے موبائل سے فوراً نکال دیں
واٹس ایپ نے پیغامات فارورڈ کرنے کی حد میں مزید کمی کر دی
5 جی ٹیکنالوجی دنیا میں کونسے انقلاب لا رہی ہے؟
گوگل اور ایپل ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک دوسرے کے حریف ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف تنقید کا موقع ضائع نہیں کرتے مگر کورونا وبا نے دونوں کمپنیوں کو ملکر کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق انکی شراکت سے کورونا وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
کورونا وائرس بچاؤ کیلئے لاک ڈاؤن معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ اسمارٹ فون ٹیکنالوجی روزمرہ کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ”رابطوں کی کھوج“ کے عمل سے کورونا وبا کا پھیلاؤ روکنے میں مدد دے سکے گا۔
کمپنیوں کی جانب سے اسمارٹ فونز میں ٹیکنالوجی دو مرحلوں میں متعارف کرائی جارہی ہے۔ پہلے مرحلہ میں مختلف حکومتوں کی مدد سے متعارف کردہ ایپس کی مدد سے اسمارٹ فونز میں معلومات ڈالی جائیں گی۔
اگر اسمارٹ فون استعمال کرنیوالے ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوتی ہے اور وہ یہ معلومات ایپس میں داخل کرتا ہے تو ان دنوں میں اس کے رابطہ میں آنیوالے تمام لوگوں کو الرٹ جاری کر دئے جائیں گے۔ اس مرحلہ میں صارفین کو اپنے فون میں ایپس ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگی، یہ دو ہفتوں پر محیط ہو سکتا ہے۔
دوسرے مرحلہ میں زیادہ وقت درکار ہو گا۔ اس میں مہنے لگ سکتے ہیں مگر اس سے ’کنٹیکٹ ٹریسنگ کے عمل میں تین ارب لوگ شامل ہو جائیں گے۔
اس مرحلہ میں دونوں کمپنیاں براہ راست اپنے سسٹم میں ٹیکنالوجی شامل کریں گی جس کے بعد ”رابطوں کی کھوج“ کے لئے صارفین کو کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ نہیں کرنا پڑے گی۔
اس میں شامل افراد کی تعداد زیادہ ہوگی کیونکہ ایپل اور گوگل صارفین کی مشترکہ تعداد لگ بھگ تین ارب ہے۔
کورونا وبا روکنے میں معاون اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر دنیا بھر میں ابھی سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا کے اربوں لوگوں کی صحت سے متعلق معلومات گوگل اور ایپل کے پاس چلی جائیں گی۔
امریکہ میں چند سیاستدانوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا وبا روکنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے دوران شہریوں کی رازداری کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
