• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

کال می مبارکہ

by sohail
اپریل 11, 2020
in کالم
1
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

(زیر مطالعہ کہانی کا اہم واقعہ محمد اقبال دیوان کی پہلی کتاب”جسے رات لے اڑی ہو “ میں شامل ہے۔  واقعے سے جڑے اہم کرداروں کے نام تحریم و تحفظ کی خاطر تبدیل کر دیے گئے ہیں)

ان دنوں ہم چیف سیکرٹری سندھ کے ایڈیشنل سیکرٹری اسٹاف ہوا کرتے تھے۔

ہمارے مربی و مشفق ڈاکٹر ظفر الطاف کراچی آئے تو کھوڑی گارڈن پر کتابوں کے بکسے بند کراتے ہوئے گویا ہوئے، وہ ٹریسا یاد ہے نا۔ اشرف نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ اس کی بیٹی مونا کو بچہ گود لینا ہے۔ کہنے لگے مونا کا میاں فریڈرک جرمن گورا ہے۔  مسلمان ہوگیا ہے۔ دونوں کی کوئی اولاد نہیں۔ انہیں دونوں طرف سے چھوٹی یتیم بچی چاہیے۔ وہ پرسوں کراچی آ رہی ہے۔

ڈاکٹر صاحب ہمیں میمن گجراتی مقامی افسر ہونے کے ناطے کراچی کا غوث اور قطب سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ششمیتا سین اور اعظم سواتی کو اغوا کرانا ہو تو ہم کراچی میں اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر یہ کام کرسکتے ہیں۔

مونا پہلی دفعہ پاکستان اکیلی آئی۔ ہم اسے اپنی سیکرٹری وجیہہ کے ساتھ ایدھی ٹرسٹ کے مرکزی دفتر واقع میٹھادر کراچی لے گئے۔ مسز بلقیس ایدھی کو مولانا ایدھی نے فون کر دیا تھا۔ وہ ہمارے پرانے واقف تھے۔ بہت کم لوگ واقف ہیں کہ گجراتی میمنی میں ایدھی کا مطلب’کام چور‘ہوتا ہے۔ جوانی میں موصوف رات سنیما میں فلمیں دیکھتے تھے۔  صبح دیر تک سوتے تھے۔ اس بنا پر والدہ انہیں زچ ہوکر ایدھی پکارتی تھیں اور پاکستانی انہیں چاؤ اور عقیدت سے مولانا ایدھی۔ جاننے والے میمن جانتے ہیں کہ مولانا ایدھی کو مذہب کو سے اتنا ہی لگاؤ تھا جتنا ہمارے دوست حافظ سعید کو ہندوستانی شاستریہ (کلاسیکل) سنگیت سے۔ بتایا گیا درخواستوں کی ان کے پاس ایک لمبی لسٹ ہے لہذا اسے ایک کام یہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنے کوائف ان لوگوں کو دے جائے۔ مونا کچھ مایوس ہو گئی۔ ہم جانتے تھے کہ میمن اور شریف خاندانی معشوق پہلی دفعہ میں کبھی ہاں نہیں کہتے۔

ہفتے بھر بعد ہمارے سیل فون پر اس ادارے کی جانب سے فون آیا کہ ایک بچی موجود ہے فوری طور پر آن کر لے جائیں۔ مونا اس وقت تک رخصت ہو کر برطانیہ چلی گئی تھی، اسے  فوراً ای میل کی، ترنت جواب آیا کہ مونانے کہا کہ وہ پاکستان نہیں آ سکتی، وہ خود مراکش میں ہے اور طیب کہیں ویت نام میں بیٹھا ہے۔  اصرار تھا کہ ہم اپنے نام پر لے جائیں مگر بے شمار قانونی دشواریوں کو سامنے رکھ کر منع کر دیا۔

بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن مونا اور طیب دونوں ایک ماہ بعد پاکستان آن پہنچے۔ ہم انہیں لے کر اس ادارے کے دفتر جب اگلی صبح پہنچے توبیگم بلقیس ایدھی نے وہ فارم دکھایا جس پر ہمارے نام کے آگے سرخ روشنائی سے انگریزی میں لکھا تھا "Non-Serious”

ادارے میں اسوقت کافی لوگ اسی مقصد کے تحت آئے ہوئے تھے، بتایا گیا کہ انہیں روزانہ نو سے دس نوزایئدہ بچوں کی لاشیں مختلف مقامات سے ملتی ہیں اور اتنے ہی نو مولود بچے انہیں شہر میں جو ان کے مختلف مقامات پر سینٹر ہیں وہاں پر باہر رکھے ہوئے جھولوں میں زندہ حالت میں ملتے ہیں ہم چونکہ ان بچوں کی لاشیں چھوٹے سفید کفنوں میں لپٹی پہلے دیکھ چکے تھے لہذا کوئی حیرت نہیں ہوئی مگر وہاں موجود لوگوں کے لیے یہ ایک جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا انکشاف تھا۔

جب سب لوگ چلے گئے تو ادارے کی سربراہ نے انہیں کہا کہ وہ ایک چودہ سال کی بہت خوبصورت لڑکی سے ملوانے اندر لے جائیں گی، یہ بچی چھ ماہ کی حاملہ ہے۔ وہ اس سے کوئی سوال نہ پوچھیں۔ اس کے ہاں ولادت ہو گی تو وہ اس کا بچہ مونا اور طیب کو دے دیں گی۔ بچی کو بتادیا جائے گا کہ بچہ  Still- Born تھا۔

مسز ایدھی ہمیں اندر لے گئیں، یہاں بچے کھیل رہے تھے۔ انہی میں وہ لڑکی بھی تھی۔ ہمیں لگا کہ سامنے جیسے ہندوستانی اداکارہ پریتی زنٹا  بیٹھی ہو، وہی نگاہ بے اعتبار والا سوگوار حسن، جامنی رنگ کے ایک ڈھیلے فراک اور گہری سبز رنگ کی شلوار پر بڑا سا چنری کا دوپٹہ اوڑھے۔ وہ کپڑے پر گوٹا ٹانک رہی تھی۔ ہم سب اس پر نگاہ ڈال کچھ بات کئے بغیر آگے بڑھ گئے۔

مونا اور طیب کچھ اداس تھے۔ واپسی پر کہنے لگی میں نہیں چاہتی کہ جس وجود کی ابتدا جھوٹ اور جرم سے ہو اس کو اپنی گود میں پالوں۔ میرے لیے یہ ایک بہت بڑا اخلاقی تضاد ہے اور میں اس سے سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ واپسی پر ہم نے دور سے انہیں اس ادارے کی کلفٹن برانچ پر رکھا ہوا جھولا دکھایا جس میں بعض دفعہ لوگ خاموشی سے اپنے بچے ڈال جاتے ہیں۔

مونا کہنے لگی وہ تین دن بعد واپس فرینکفرٹ چلی جائے گی۔  اگر کل کچھ ہو جائے تو اچھا ہے وہ دو دن کے لیے طیب کو لاہور دکھانا چاہتی ہے۔ اگلی  صبح ہماری سرکاری مصروفیت تھی۔ ایدھی صاحب کو فون کیا کہ اور جتایا کہ خود میمن اگر میمنوں کو گورے مہمانوں کے سامنے ایسا بھوٹا  (میمنی میں شرمندہ) کریں گے تو قیامت کے دن حساب کتاب میں فرشتے اور بھی نکھود (بربادی) نکال دیں گے۔ ہنس پڑے۔ کہنے لگے گوروں کو بھی خبر ہے کہ بیویاں کسی کی نہیں سنتیں ۔ میمنوں کی تو بالکل نہیں۔ اگلے دن ہم سرکاری طور پر مصروف تھے ہم نے اپنی سیکرٹری اور ڈپٹی ڈائیریکٹر نعیم کو ساتھ بھیج دیا۔

سینٹر پر آئے ہوئے مہمان رخصت ہوئے تو مسز ایدھی مونا کو کہنے لگیں "چل تیرے کو تیرا بچہ دوں "۔  آیا کو کہا ” زبیدہ! جا وہ بچی لے آ۔ "

آیا زبیدہ گئی اور برابر کے کمرے سے ہلکے گلابی کمبل میں لپٹی ایک کومل سی بچی لے آئی جو آنکھیں کھولے اپنے نئے ماں باپ کو دیکھے جاتی تھی۔ بچی خوبصورت بھی تھی اور کمبل کو دیکھنے سے لگتی تھی کہ وہ کسی اچھے گھرانے کی تھی۔ اس کی ناف پر جو ایک کلیمپclamp  لگا تھا وہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ بچی کو پیدا ہوئے ایک آدھ دن سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور اس کی پیدائش بھی موزوں طریقے سے ہوئی ہے۔

اگلی رات ہمارے کلفٹن والے سینٹر پر رات کو ساڑھے دس بجے ایک ٹیکسی آ کے رکی۔ ہمارے سینٹر کا انچارج باہر ہی کھڑا تھا۔ جو بڑی بی بچی کو جھولے میں ڈالنے کے لیے کار سے اتری تھی وہ گھبرا گئی۔ ہمارا انچارج بولا کہ میں اندر چلا جاتا ہوں۔ آپ فکر مت کرو اور بچی کو ڈال دو۔ اس نے بچی کو اسے دے دیا اور خود ٹیکسی میں بیٹھ کر چلی گئی۔

مسز ایدھی ہدایت دینے لگیں کہ” نوزایئدہ بچوں کو شروع میں یرقان ہوجاتا ہے وہ جائے اور پہلے اس کا ٹیسٹ وغیرہ کرائے اور وہ اس کا نام کیا رکھے گی۔ اس کے بعد میونس پالٹی (میونسپلٹی) سے اس کا برتھ سارٹی فیکیٹ (سرٹیفکٹ) بنے گا وہ جو تیرا دوست ہے نا اس کو بولے گی تو سارا کام فون پر ہو جائے گا۔ دیکھ تیرے ساتھ اپنے دو فرشتے بھیجے ہیں نا۔ یہ مارا ماری کر کے سب کام کردیں گے۔ ہمارے ادھر آفیسروں کا بہت جور (زور) ہے۔

"مبارکہ طیب "مونا نے تمام تٖفصیلات میں صرف نام بتانے کو مناسب جانا۔

مبارکہ بی بی کی پیدائش کا سرٹیفکٹ اسی دن، جرمنی کا پاسپورٹ تیسرے دن بن گیا۔ ایک بہترین ہسپتال میں اسے کراچی کے ماہر امراض طفل نے مکمل صحت یابی کا سرٹیفکٹ جاری کیا۔ ہسپتال سے نکل کر یہ معصومہ سیدھی کراچی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے بزنس سوئیٹ میں رہنے اور پاسپورٹ جاری ہونے کے پانچویں دن اپنے گھر دادا دادی کے پاس فرینکفڑٹ کے ایک نواحی گاؤں میں پہنچ گئی جہاں ان کی بڑی جائداد تھی، طیب ان کی اکلوتی اولاد ہونے کے ناطے اس جائداد کا تنہا وارث تھا بلکہ اسکی بیوہ نانی کی جائداد بھی اس ہی ملنی تھی جو یہودی تھی۔

ہندوستان کا مشہور اداکار راج کپور کہا کرتا تھا۔  "ماں جنم دے سکتی ہے، کرم (نصیب) نہیں دے سکتی۔ "مبارکہ کی ماں نے بھی اسے صرف جنم دیا تھا۔  کرم اسے رضائے الہٰی سے ملا تھا۔

ہم نے جب مبارکہ کو چوما، مونا کو گلے لگایا تو آہستہ سے وقتِ رخصت ایئر پورٹ پر  اداکار راج کپور کے الفاظ دہراتے ہوئے صرف اتنا کہا۔

"The Show must go on”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں.

sohail

sohail

Next Post
چینی اور آٹے کے بعد پاور سیکٹر اسکینڈل کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

چینی اور آٹے کے بعد پاور سیکٹر اسکینڈل کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

اربوں روپے کی چینی بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے فروخت کیے جانے کا انکشاف

اربوں روپے کی چینی بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے فروخت کیے جانے کا انکشاف

نیویارک میں رہائش پذیر 100 سے زائد پاکستانی کورونا وبا سے جاں بحق

نیویارک میں رہائش پذیر 100 سے زائد پاکستانی کورونا وبا سے جاں بحق

115 ملین پاکستانیوں کا موبائل ڈیٹا، ٹیکس تفصیلات ڈارک ویب پر برائے فروخت

115 ملین پاکستانیوں کا موبائل ڈیٹا، ٹیکس تفصیلات ڈارک ویب پر برائے فروخت

خواجہ برادران کی چوہدری پرویز الہی سے ملاقات

Comments 1

  1. رفعت علی خان says:
    6 سال ago

    پوری کہانی پڑھیں، تو پتہ چلے گا، کہ کیا معرکتہ الآراء کہانی ہے، کہ جس کو مختصراً یہاں پیش کیا ہے؛ اقبال دیوان صاحب کی لفظوں کی جادوگری کمال ہے؛

    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In