امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وباء سے جاں بحق ہونیوالے 8 ہزار افراد میں 100 سے زائد پاکستانی بھی شامل ہیں۔
پاکستان کی قونصل جنرل عائشہ علی کہنا ہے کہ اسپتالوں، جنازہ گاہوں اور متاثرہ خاندان کے افراد سے ملنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک، نیو جرسی میں اب تک 100 سے زائد پاکستانی کورونا وباء کے مرض کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں ۔
ڈان اخبار کے مطابق اطلاعات ہیں کہ امریکہ کی دوسری ریاستوں میں بھی اس وباء سے پاکستانیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس حوالے سے پاکستانی سفارتخانہ معلومات اکٹھی کر رہا ہے تاکہ معلوم ہو چکے کہ امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کو اس وباء نے کس سطح پرمتاثر کیا ہے۔
موت نے گھر دیکھ لیا، نیویارک میں تدفین کے لیے کنٹریکٹ پر مزدور بھرتی
اسمارٹ فون اب کورونا وائرس سے بھی بچائے گا، اہم پیش رفت سامنے آ گئی
قرنطینہ اور تنہائی، امریکہ میں کتوں کی طلب بڑھ گئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ہفتہ امریکی شہریوں کے لیے بہت مہلک ثابت ہوا ہے، اب تک امریکہ میں 18 ہزار سے زائد اموات واقع ہو چکی ہیں ۔
کورونا وباء دنیا بھر کے 17 لاکھ سے زائد افراد کو اس وقت تک متاثر کر چکی ہے جن میں سے اب تک صرف امریکہ میں 5 لاکھ سے زائد مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔
امریکہ میں کونسا طبقہ کورونا وباء کی لپیٹ میں آ رہا ہے؟
نیویارک کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر نسلوں پر اس وباء کے مہلک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ نیو یارک میں ہسپانوی کمیونٹی 34 فیصد کے حساب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، اس کے بعد افریقی امریکن 28 فیصد، گورے 27 فیصد جبکہ ایشیائی امریکیوں میں ہلاکتیں 7 فیصد ہوئی ہیں جن میں بھارتی اور پاکستانی شامل ہیں۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کیا حالات ہیں؟
ڈان اخبار سے بات کرتے ہوئے پاکستانی قونصل جنرل عائشہ علی کہتی ہیں کہ مزید معلومات کے سامنے آنے پر خدشہ ہے کہ اموات کی تعداد میں اضافہ ہو گا، ہماری کمیونٹی مضبوط ہے جس نے اپنے بل بوتے پر بہت کچھ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمیونٹی کی جانب سے کمزور طبقے یعنی 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے خوراک تقسیم کی جا رہی ہے جو گھروں سے باہر نہیں جا سکتے کیونکہ جاری اعداد شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 90 فیصد اموات اسی عمر کے افراد میں ہوئی ہیں ۔
نیویارک میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کی وجہ کیا ہے؟
امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سے اپنی خدمات کے عوض حالیہ دنوں میں ایوارڈ حاصل کرنیوالے ڈاکٹر عزیز میمن کا کہنا ہے کہ نیویارک جیسے گنجان آباد علاقوں میں رہائش اور ٹرانسپورٹ کا استعمال کورونا وباء کے پھیلاءو کو مزید بڑھاوا دیتا ہے۔
ڈاکٹر عزیز میمن کے مطابق بڑے شہروں کے لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ باہر کا کھانا کھائیں جبکہ نیویارک میں دیسی ہوٹلز میں صفائی اکثر ناقص ہوتی ہے اور یہاں پر کھانا کھانیوالوں پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
