وزارت تجارت اس وقت مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے کیونکہ ایکسپورٹرز اپنے آرڈرز کی صحیح تعداد اور خریداروں کی تفصیلات چھپا رہے ہیں۔
وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹرز اپنے تاخیر شدہ، ملتوی کئے گئے اور منسوخ شدہ آ رڈرز کی تفصیلات دینے سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے خریداروں کو حکومتی مداخلت کے باعث پریشانی سے دوچار نہیں کرنا چاہتے۔
وزارت تجارت کے مطابق ایکسپورٹرز اپنے خریداروں کی تفصیلات اس ڈر سے بھی فراہم نہیں کر رہے کہ یہ معلومات کہیں ان کے حریفوں تک نہ پہنچ جائیں اور وہ قیمتوں میں کمی کر کے انہیں مارکیٹ سے باہر نہ کر دیں۔
کورونا وائرس سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالرز نقصانات کا خدشہ
پاکستان کو برآمدات کے شعبہ میں 2 ارب ڈالرز کے نقصان کا خدشہ
وزارت تجارت نے ایکسپورٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے خریداروں کے متعلقہ ممالک میں موجود پاکستانی ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسرز سے رابطہ کریں اور ان سے معلومات شیئر کریں تاکہ حکومت ان خریداروں سے رابطہ کر کے انھیں آڈرز منسوخ نہ کرنے پر قائل کر سکے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع مشتاق گھمن کی خبر کے مطابق ایکسپورٹرز نے کہا ہے کہ انھیں سمجھ نہیں آ رہا کہ حکومت کس طرح مداخلت کر کے ان کے آرڈرز منسوخ ہونے سے بچا سکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انھیں خوف ہے کہ اگر ان کا ڈیٹا ایف بی آر کے حوالے کر دیا گیا تو انھیں نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور انڈر انوائسنگ کے کیسز شروع کئے جا سکتے ہیں۔
وزارت تجارت نے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو خط لکھا ہے جس میں ان سے صنعتوں اور کنفرم آڈرز والے صنعتی یونٹس کو کھولنے سے متعلق ان کی آراء مانگی ہیں۔
سیکرٹری تجارت احمد نواز سکیھرا نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ وزارت تجارت نے 9 اپریل 2020 کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو صنعتوں پر کورونا وائرس کے اثرات کم کرنے اور کنفرم آرڈرز والے صنعتی یونٹس کو کھولنے کے معاملات پر اب تک کئے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس میٹنگ کی صدارت کی، انہوں نے ہدایت جاری کی کہ تمام صوبوں سے مشاورت کر کے کنفرم آڈرز والے صنعتی یونٹس کو کھولنے کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے اور اس کی رپورٹ 11 اپریل کو این سی او سی کے سامنے پیش کی جائے۔
