کورونا وبا کے دوران دنیا بھر کے سیاسی و معاشی نظاموں کا امتحان جاری ہے، دنیا بھر میں ہر ایک ملک کی وبا سے لڑنے کی حکمت عملی کو بغور دیکھا جا رہا ہے، ٹیکنالوجی کی وجہ سے گلوبل ویلج بنی دنیا کے کئی رہنماؤں اور سیاسی دانشوروں نے کورونا وبا کے بعد کی دنیا کی تصویر کشی شروع کر دی ہے، ان کے مابین اس بات پر بحث جاری ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں چین یا امریکہ میں سے کون لیڈر بن کے ابھرے گا۔
یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ کی مشیر نیتھالی ٹوکی کا کہنا ہے کہ جیسے 1956ء کا سویز بحران برطانیہ کی عالمی طاقت کے خاتمہ کی علامت بنا بالکل اسی طرح کورنا وبا امریکہ کے لیے ثابت ہوسکتی ہے۔
کورونا وباکے بعد کی دنیا میں کون راج کرے گا؟
دی گارڈین کے ڈپلومیٹک ایڈیٹر پیٹرک ونٹور نے اپنے ایک آرٹیکل میں اس سوال کا جواب تفصیل سے دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوں لگ رہا ہے جیسے کورونا وبا عالمی لیڈرشپ کے لیے مقابلہ میں بدل گئی ہواور ایسی فضا میں دنیا کا جھکاؤ ان ممالک کی طرف ہوگا جو سب سے مؤثر انداز میں اس بحران سے نمٹیں گے۔
کورونا وائرس عالمی سطح پر کیا تبدیلیاںلائے گا؟ دنیا کے 12 معروف دانشوروں کی پیش گوئیاں
کورونا کے اثرات کے متعلق دنیا کے بڑے بنکوں کی پیش گوئیاں
کورونا وبا: نئی دنیا تخلیق کرنے کا موقع
انہوں نے لکھا ہے کہ خالی سفارتخانوں میں بیٹھے سفیروں کی جانب سے اپنی اپنی حکومتوں کے اس وبا پر قابو پانے کے اقدامات کا دفاع جاری ہے، دنیا کے ممالک کی قومی عزت اور صحت دونوں خطرے میں ہیں اور ہر ملک اپنے ہمسائیوں کی جانب دیکھ رہا ہے کہ وہ کیسے وبا پر قابو پا رہے ہیں۔
انہوں نے دی کرائسز گروپ تھنک ٹینک کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ان کے مطابق اس وقت دنیا میں دو مختلف بیانیے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، ایک بیانیہ دنیا کے ممالک کو یہ سبق دیتا ہے کہ کورونا وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کو ایک دوسرے کے نزدیک آنے کی ضرورت ہے جبکہ دوسرے بیانیہ سے ملنے والا سبق یہ ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو الگ الگ رہنا چاہیے تاکہ وہ اس وبا سے محفوظ رہ سکیں۔
اس کے علاوہ کورونا وبا عالمی اداروں جیسا کہ اقوام متحدہ اورعالمی ادارہ صحت کی آپریشنل صلاحیتوں کا بھی امتحان لے گا۔
فی الحال مشرق کا پلڑا بھاری ہے!
پیٹرک ونٹور کے مطابق بہت سے ماہرین ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ بیانیوں کی یہ جنگ مشرق جیت چکا ہے، جنوبی کوریا کے فلاسفر ینگ چل ہان کی جانب سے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایشیائی ممالک جن میں چین، جاپان، ہانگ کانگ، کوریا، تائیوان یا سنگاپور شامل ہیں اس وقت کے فاتح ہیں۔
ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان تمام ممالک میں آمرانہ مزاج رائج ہے اور لوگ یورپ کی نسبت ریاست کی زیادہ تابعداری کرتے ہیں۔
ان ممالک کے شہریوں کا ریاست پر اعتماد زیادہ ہے اور یہاں روزمرہ کی زندگی زیادہ منظم ہے، مزید براں کورونا وائرس کے خاتمہ کے لیے ایشیائی ممالک ڈیجیٹل نگرانی کا استعمال کر رہے ہیں۔
ان کی جانب سے اپنے مضمون میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ چین کو وبا کے خلاف کامیابی کے بعد اپنی ”ڈیجیٹل پولیس اسٹیٹ“ کو بطور ماڈل دنیا کو بیچنے کا موقع ملے گا اور وہ اب زیادہ فخر سے اپنے نظام کی برتری کا اظہار کرے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی ووٹر اب اپنی حفاظت کے لیے اپنی آزادیوں کو قربان کرنے پر بھی تیار ہو گا۔
پیٹرک ونٹور کے مطابق چین کے سفیروں کی نئی نسل سوشل میڈیا پر اپنے ملک کی برتری کا پرچار کر رہی ہے۔ فرانس کے سابق سفیر مائکل ڈکلاس نے چین پر کورونا وائرس کے خلاف فتح کو استعمال کرکے اپنے سیاسی نظام کی ترویج کا الزام لگایا ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے غیراعلانیہ سرد جنگ نے اپنا چہرہ دکھا دیا ہے۔
ہارورڈ کے عالمی تعلقات کے ماہر سٹیفن والٹ کا کہنا ہے کہ اس عمل میں چین کامیاب ہو سکتا ہے۔
فارن پالیسی میگزین میں لکھتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس طاقت اور اثرورسوخ کو مغرب سے مشرق کی جانب لانے کے عمل کو تیز کرے گا۔ ان کے مطابق چین، جنوبی کوریا اور سنگاپور کی جانب سے وبا کے خلاف بہترین جواب دیا گیا جبکہ یورپ میں حکومتوں کی کورونا وبا کے خلاف کارروائیاں شکی قسم کی رہیں جس کی وجہ سے مغربی برانڈ کی طاقت کھو جانے کا امکان ہے۔
دوسری طرف چند ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آمرانہ حکومتوں کی کورونا وبا کے خلاف حکمت عملی زیادہ مؤثر نہیں، بھارت کی اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر شیوشنکر مینن کے مطابق کورونا وائرس پر آغاز میں ہی قابو پانے والے مشرق کے ممالک کوریا اور تائیوان جیسے ممالک میں جمہوریت ہے۔
اسی طرح فرانسس فوکویاما کی جانب سے جرمنی اور جنوبی کوریا کی تعریف کی گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے خلاف کارکردگی کا انحصار اس بات پر نہیں کہ کس ملک میں کس قسم کی حکومت ہے بلکہ اس بات پر ہے کہ ریاست کی صلاحیت کتنی ہے اور لوگوں کو حکومت پر اعتماد کس قدر ہے۔
کورونا وبا یورپی یونین کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟
کورونا وبا کے دوران یورپی یونین میں شامل ممالک نے سرحدیں بند کی، رکن ممالک میں ذخیرہ اندوزیاں ہوئیں اور قومی سطح پر کورونا کے خلاف کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔
پیٹرک ونٹور کے مطابق ضروت کے وقت یورپی یونین میں شامل ممالک پر انکشاف ہوا کہ ہر ملک اپنے لیے ہے اور کورونا سے تباہ حال اٹلی کو خود پر ہی انحصار کرنا پڑا۔
یورپی یونین ممالک کے حکام کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
اٹلی کے وزیراعظم جیوسیپے کونتے کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یورپی یونین ناکام ہوتی ہے تو یہ ٹوٹ سکتی ہے۔
شمالی اور جنوبی یورپ کے ممالک کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ اٹلی، نیدرلینڈ سے ناخوش ہے، نیدرلینڈ کی جانب سے اٹلی کی مدد میں روڑے اٹکانے کے معاملہ پر سابق وزیراعظم اینریکو لیتا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کے ملک کی نیدرلینڈ کے بارے میں رائے بری طرح خراب ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ جرمن کسٹم حکام کی جانب سے اٹلی کو بھیجے گئے ماسک کی بڑی مقدار کو سرحد پر روک لیا جائے اور پھر اسی دوران روس اور چین کی جانب سے کروڑوں ماسک بھیجے جائیں۔
عالمی رہنماؤں کے نیوورلڈ آرڈر کی تشکیل کے اشارے
ہنری کسنجر نے کہا ہے کہ عالمی رہنما کورونا وائرس وبا کے بعد کے دور کے ورلڈ آرڈر کی طرف نقل مکانی کی تیاری کریں۔
فرانس کے صدر میکرون کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کا دور ہمیں بہت کچھ سکھا جائے گا، ان کا کہنا ہے کہ بہت سی چیزیں جنہیں ہم ناممکن سمجھتے تھے ہمارے سامنے ہو رہی ہیں، ان کی جانب سے صحت کے شعبہ میں بھاری سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے مابین تعلقات اس قدر خراب کبھی نہ تھے، کورونا وبا ڈرامائی انداز میں ہمیں یہ دکھا رہی ہے کہ یا تو ہم آپس میں ہاتھ ملا لیں یا پھر ہم شکست خوردہ ہوجائیں۔
