برطانیہ میں اب تک 80 ہزار کے قریب کورونا کے مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ 9 ہزار 8 سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وائرس سے مرنے والوں کی زیادہ تعداد سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر اقلیتی نسلی گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔
برطانوی میڈیا اب سوال اٹھا رہا ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سفید فام لوگوں کی نسبت دیگر نسلوں کے افراد کورونا کا شکار کیوں ہو رہے ہیں۔
انگلینڈ اور ویلز میں افریقی اور ایشیائی نسل کے لوگ کل آبادی کا محض 14 فیصد ہیں، کرونا وائرس سے شدید متاثر ہونے والے کی تعداد 3000 ہے جس میں 34 فیصد لوگ اسی افریقن اور ایشیائی کمیونٹی سے ہیں۔
گارڈین اخبار سے بات کرتے ہوئے برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر چاند نگپال نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے، برطانیہ میں پہلے دس ڈاکٹر جو کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں، ان کا یا ان کے والدین کا تعلق بھی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے تھا۔
قربانی اور ایثار کی دیوی، برطانوی نرس اریمہ نسرین جان کی بازی ہار گئیں
کورونا کی ویکسین ستمبر تک تیار ہو جائے گی، برطانوی سائنسدان کا دعویٰ
کورونا وائرس: عالمی ماہرین کی دنیا پر مشرق کی حکمرانی کی پیش گوئی
انہوں نے کہا کہ ہم نے تو سنا تھا کورونا وائرس افراد میں امتیاز نہیں کرتا لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس کا شکار ہونے والوں میں سفید فام افراد کی نسبت دیگر نسلی گروہوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا اگرچہ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی نسلی شناخت کے حوالے سے مکمل اعدادوشمار سامنے نہیں آئے مگر ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی اموات میں سفید فام اور دیگر قوموں کے درمیان فرق واضح ہے۔
اس وقت بھی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں موجود 2 ہزار افراد میں سے 35 فیصد مریض سفید فام نہیں ہیں۔
ڈاکٹر چاند نگپال نے کہا کہ ابھی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اس معاملے کی تحقیق ہونی چاہیے، غیرسفید فام ڈاکٹرز اور نرسوں میں اس معاملے پر درحقیقت بہت تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ غیرسفیدفام طبی عملہ حفاظتی سازوسامان کی کمی کی شکایت نہیں کرتا جس کی وجہ سے وہ خطرے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غیرسفیدفام ڈاکٹرز جب شکایت کرتے ہیں تو انہیں سفید فام طبی عملے کے برعکس اعلیٰ حکام کی جانب سے ہراساں کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ سخت رویہ رکھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر چاند نے کہا کہ غیرسفید فام لوگ بڑی تعداد میں گھر سے باہر آکر قوم کی خدمت کر رہے ہیں، اس کے علاوہ وہ گنجان آباد علاقوں میں رہتے ہیں جہاں مختلف اقوام کے لوگ موجود ہیں، اس وجہ سے بھی ان میں ہلاکتوں کی شرح زیادہ ہو سکتی ہے۔
برطانیہ میں زیرتعلیم طالب علم ذیشان ہاشم کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ کلچرل فرق ہے، ایشیائی لوگ وبا کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے اور احتیاط نہیں کرتے۔
