اگرچہ کوویڈ 19 ایک نیا وائرس ہے جس پر مکمل تحقیق ابھی سامنے نہیں آئی مگر بہت سے سائنسدانوں کو امید تھی کہ گرم موسم کے باعث یہ کمزور پڑ جائے گا اور اس کا پھیلاؤ رک جائے گا۔
اس سے قبل دیکھا جا چکا ہے کہ سارس اور انفلوئنزا کی وجہ بننے والے وائرس کا پھیلاؤ گرم موسم میں کم ہو جاتا ہے، چین کی دو مشہور یونیورسٹیوں میں کی گئی ایک ابتدائی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ چین میں موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ کورونا کا پھیلاؤ رکنے لگا تھا۔
اسی طرح اس وقت نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں خزاں کا موسم شروع ہو رہا ہے اور ان دونوں ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق بیجنگ کی فودان یونیورسٹی میں کورونا وائرس اور موسم کے حوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کا موسم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کورونا وبا غریب ممالک میں کتنی تباہی پھیلا سکتی ہے؟
کورونا وبا کا خاتمہ کیسے ہو گا؟ تین امکانات سامنے آ گئے
کورونا وائرس: عالمی ماہرین کی دنیا پر مشرق کی حکمرانی کی پیش گوئی
ویبنگ وانگ کے ماہرین صحت اور یونیورسٹی کے پروفیسرز کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موسم کے اثرات کورونا وائرس پر قابل ذکر نہیں پائے گئے۔
ریسرچرز نے بتایا کہ یہ سوچ خطرناک ہے کہ کورونا وائرس کو گرم موسم پھیلنے سے روک دے گا، موسم کی تبدیلی تھوڑی سی مدد تو کر سکتی ہے لیکن اس کے پھیلاؤ کو نہیں روک سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سفری پابندیاں اور سکولوں کی بندش کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلہ قائم رکھے بغیر اس کو پھیلنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
اپنی تحقیق میں ڈاکٹر وانگ اور ان کے ساتھیوں نے 224 چینی شہروں میں کورونا کے پھیلاؤ کا مطالعہ کیا، ان میں صوبہ ہوبائی کے 17 شہر بھی شامل ہے جہاں سے وائرس کا آغاز ہوا تھا۔
انہوں نے جنوری سے لے کر مارچ کے درمیان موسم کی روزانہ کی معلومات اکٹھی کیں اور اس کا وائرس کے پھیلاؤ کی یومیہ رفتار سے موازنہ کیا، ریسرچرز اس نتیجے پر پہنچے کہ ان دونوں کا کوئی قابل ذکر تعلق نہیں ہے۔
انہیں درجہ حرارت اور سورج سے آنے والی الٹراوائلٹ شعاعوں کا اور وائرس کے پھیلنے کا بھی آپس میں کوئی ربط نظر نہیں آیا۔
اسے سے قبل جزیرہ نما عرب میں پھیلنے والا مرس وائرس بھی گرمی سے متاثر نہیں ہوا تھا، 45 ڈگری درجہ حرارت پر بھی وہ اپنے پھیلاؤ کے عروج پر رہا تھا۔
