کسی بڑی وبا کے متعلق سازشی نظریات تو سامنے آتے رہتے ہیں لیکن دنیا کے سنجیدہ اور معروف لوگ اس حوالے سے کئی برسوں سے وارننگ دے رہے تھے۔
ان میں سے گیارہ لوگ اور گروہ ایسے ہیں جن کی پیش گوئیاں میڈیا سامنے لا رہا ہے۔
بل گیٹس
بل گیٹس کئی برسوں سے دنیا کو بتا رہے تھے کہ ایک خطرناک وبا کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے جس کے لیے ہم بالکل تیار نہیں ہیں۔
2015 میں ٹیڈ ٹاک نے کہا تھا کہ دنیا نئی وبا کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔ اسی طرح 2018 میں میسا چیوسٹس میں وباؤں کے متعلق ایک گفتگو میں کہا تھا کہ ایک وبا اگلے دس برسوں میں کسی بھی وقت پھیل سکتی ہے۔
انہوں نے ایک کمپیوٹر پروگرام بھی دکھایا جس میں بتایا گیا تھا کہ 1918 میں آنے والی اسپینش فلو، جس نے 5 کروڑ افراد کی جان لے لی تھی، اگر 2018 میں آئی تو چھ ماہ میں 3 کروڑ افراد اس سے ہلاک ہو جائیں گے۔
انہوں نے تنبیہ کی تھی کہ ہمیں وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسی ہی تیاری کرنی چاہیے جیسی ہم جنگ کے لیے کرتے ہیں۔
سلویا براؤن (روحانی طاقتیں رکھنے کی دعویدار)
اپنی 2008 میں لکھی گئی کتاب "اینڈ آف ڈیز” میں سلویا براؤن نے لکھا تھا کہ 2020 کے آس پاس نمونیہ جیسی ایک وبا پوری دنیا میں پھیل جائے گی جو پھیپھڑوں اور برونکائیٹل ٹیوبز پر حملہ کرے گی اور اس کا کوئی علاج نہیں ہو گا۔
یہ حیرت انگیز پیش گوئی اسی طرح پوری ہوئی جیسے سلویا براؤن نے 12 برس پہلے کی تھی۔
مائیکل اوسٹرہوم (متعدی امراض کے ماہر)
سی این این کے مطابق مائیکل اوسٹرہوم نے 2005 میں فارن افیئرز میگزین میں لکھا تھا کہ یہ ہماری تاریخ کا ایک نازک دور ہے، اگلی وبا کی تیاری کے لیے ہمارے ہاتھ سے وقت نکلا جا رہا ہے، ہمیں فیصلہ کن انداز میں اور ایک مقصد کو سامنے رکھ کر کام شروع کر دینا چاہیے۔
2017 میں لکھی گئی اپنی کتاب "مہلک ترین دشمن، قاتل جرثوموں کے خلاف ہماری جنگ” میں انہوں نے ایک بار پھر یہی لکھا کہ امریکہ کسی وبا کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔
رابرٹ جی ویبسٹر (وائرس اور فلو کے ماہر)
گزشتہ برس دسمبر میں شائع ہونے والی کتاب میں رابرٹ جی ویبسٹر نے وبا پر ایک پورا باب لکھا تھا جس میں بہت خوفناک منظر کشی کی گئی تھی۔
انہوں نے لکھا تھا کہ ایک مہلک وبا نہ صرف ممکن ہے بلکہ یہ کسی بھی وقت پھیل سکتی ہے، اس سے پہلے کہ اس پر قابو پایا جائے، اس وقت تک لاکھوں لوگ اس کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہوں گے۔
انہوں نے کہا فطرت ہمیں 2018 کے فلو کی طرح ایک بار پھر چیلنج کرے گی اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
امریکہ کی انٹیلی جنس ٹیم
سی این این کے مطابق 2018 میں ورلڈوائیڈ تھریٹ اسیسمنٹ کمیونٹی نے تنبیہ کی تھی کہ وائرس کی نئی قسم سامنے آ سکتی ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان کی طرف باآسانی منتقل ہو سکے۔
2019 میں اس ٹیم نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ اور باقی دنیا فلو جیسی وبا کے لیے تیار نہیں ہے جس کی وجہ سے وبا پھیلنے کی صورت میں بہت بڑا جانی نقصان ہو گا اور معیشت کے لیے بھی بہت برا ہو گا۔
جیریمی کوننڈک (یو ایس ایڈ کے سابق افسر)
جیریمی نے 2017 میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ عالمی سطح کا ایک صحت کا بحران آنے والا ہے، سوال یہ نہیں ہے کہ کیا یہ آئے گا بلکہ یہ کہ کب آئے گا؟
انہوں نے لکھا کہ ایک مرحلہ آئے گا جب ایک مہلک اور تیزی سے پھیلنے ولا وائرس ظاہر ہو گا جو دنیا کی ایک تہائی آبادی کو متاثر کرے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ اس سے 5 سے 10 کروڑ لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں، لیکن صدر ٹرمپ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ڈاکٹر لوسیانا بوریو (وائیٹ ہاؤس نیشنل سیکیورٹی کونسل کی سابق رکن)
سی این این کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر لوسیانا نے 2018 میں کہا تھا کہ فلو کی وبا کا خطرہ صحت کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویشناک معاملہ ہے اور ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔
میساچوسٹس کے پبلک ہیلتھ افسران
2006 میں فلو پینڈیمک پریپیرڈنس پلان کے افسران نے پیش گوئی کی تھی کہ وبا کی صورت میں امریکہ کے بیس لاکھ کے قریب افراد بیمار ہوں گے۔
ان کا اندازہ تھا کہ دس لاکھ افراد کو تو آؤٹ پیشنٹ کے طور پر علاج کرنا پڑے گا لیکن 80 ہزار کو اسپتال داخل کرانا ہو گا۔
انہوں نے مزید بتایا تھا کہ چونکہ اسپتال مریضوں سے بھر جائیں گے اس لیے 20 ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوں گے۔
ڈین کونز کا 1981 میں لکھا گیا ناول؟
گارڈین کے مطابق کونز کے ناول ‘دی آئی آف ڈارک نیس’ میں ووہان 400 نامی وائرس کا حوالہ دیا تھا۔
لیکن سی این این کے ہرمیت کور کا کہنا ہے کہ ناول میں جس وائرس کا ذکر ہے وہ کسی سائنسدان نے بنایا تھا اور اس کا ہر مریض ہلاک ہو جاتا تھا جبکہ کورونا کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔
فلم "کنٹیجئین”
2011 میں ریلیز ہونے والی فلم کنٹیجئین میں ایم ای وی ون نامی ایک افسانوی بیماری دکھائی گئی ہے جو ایک سور سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور پھر پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
اس فلم میں حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ بیماری صرف ان لوگوں کے ذریعے پھیلتی تھی جو دوسروں سے ہاتھ ملانے سے پہلے اپنے ہاتھ نہیں دھوتے تھے۔
ناسٹراڈیمس (16ویں صدی کا نامور ستارہ شناس)
1555 میں شائع ہونے والی ناسٹراڈیمس کی 1000 کے قریب پیش گوئیوں پر مشتمل کتاب میں ایک جگہ ٹائبر دریا کے متعلق لکھا ہے کہ اس کی سرزمین خون سے بھر جائے گی اور مختلف قسم کی وبائیں انسانیت پر حملہ آور ہوں گی۔

Comments 1