انڈونیشیا کے ایک جوڑے نے اپنی شادی کے دن کو یادگار بنانے کے لیے ایک انوکھی تقریب منعقد کی جس میں ان کے سینکڑوں مہمانوں نے آن لائن شرکت کی۔
کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی وبا نے دلہا محمد نور جمان اور دلہن اوگی ودیا بہاری کو اپنا شادی کا پلان تبدیل کرنے پر مجبور کیا اور جمعہ کے روز منعقد اس تقریب میں ان کے اہلِ خانہ کے صرف 8 افراد نے شرکت کی جبکہ باقی رشتے داروں نے 40 منٹ کی اسے اپنے اپنے گھروں میں براہِ راست دیکھا۔
اگرچہ انڈونیشیا میں لوگوں کے اجتماع پر سرکاری طور پر پابندی عائد نہیں کی گئی تاہم حکام نے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سماجی دوری برقرار رکھیں۔
کورونا وبا کے سائے تلے امریکہ میں مقیم بھارتی خاندان کی دلچسپ شادی
کورونا وائرس کا خوف چاہنے والوں کو ایک ہونے سے نہ روک سکا
کورونا وائرس: انڈونیشیا میں ڈالر کی قیمت 20 ہزار روپے تک جا سکتی ہے
انڈونیشیا میں کورونا سے 3ہزار 512 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 306 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔
ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دولہے محمد نورجمان نے بتایا کہ وہ اس بات سے مایوس ہیں کہ وہ اپنی شادی کے جشن کو اس طرح سے نہیں منا سکے جیساکہ انھوں نے سوچا تھا لیکن ہم اس صورتحال کو سمجھتے ہیں کیونکہ کورونا وائرس صرف ایک یا دو انسانوں کو متاثر نہیں کرتا، اس لیے ہمارے پاس اس صورت حال کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں۔
یہ جوڑا گزشتہ دو سالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں تھا اور انھوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا فیصلہ کیا۔
12 اپریل کو ہونے والی ریسپشن کی تقریب کیلئے جوڑے نے 500 مہمانوں کو شرکت کی دعوت دے رکھی تھی مگر اسے کورونا وائرس کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔
