کورونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے، مختلف ممالک کا آپس میں ایک طرح سے رابطہ ختم ہو چکا ہے، شہروں کا شہروں سے رشتہ کٹ گیا ہے، فضاؤں میں تیرتے جہاز بھی گراؤنڈ پر آرام کر رہے ہیں جبکہ زمین پر بھی نقل و حرکت کے ذرائع محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔
ان حالات میں تجارتی نیوی کے 11 افسران بھی جنوبی کوریا میں پھنس گئے ہیں، ان میں 7 کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ 4 بھارتی باشندے ہیں۔
یہ لوگ جب اپنے اپنے ممالک جانے کے لیے ایئر پورٹ پر پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ کوریا سے جانے والی تمام فلائٹس معطل ہو چکی ہیں، یہ تمام افراد بحری جہاز کے ذریعے دیارغیر پہنچے تھے۔
بھارتی اداکار انوپم کھیر کا خوبصورت ویڈیو پیغام، تمام انسانوں کے نام
بھارت سے لوٹنے والے دو پاکستانیوں میں کورونا کی تصدیق ہو گئی
مجبوری کے عالم میں ان کے کپتان نے ایجنٹ سے رابطہ کیا اور انہیں تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا جس نے ان کے لیے ہوٹل کا انتظام کیا اور وہ اس میں ٹھہرا دیے گئے۔
بعد ازاں بحری جہاز کے پاکستانی کپتان نے کوریا میں موجود پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا اور انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا جس کے بعد سفارتخانے نے بھارتی افسران سمیت تمام افراد کو ان کے ہوٹل میں کھانا پہنچانا شروع کر دیا۔
اس موقع پر ایک مختصر ویڈیو بھی بنائی گئی جس میں بھارتی افسران نے پاکستانی سفارتخانے کا شکریہ ادا کیا۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کے بعد آپ لوگوں کو کسی دشواری کا سامنا تو نہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ انہیں یہاں پاکستانیوں کے ساتھ اکٹھا رہنے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ جہاز پر بھی پاکستانی ٹیم کے ہمراہ تھے اور وہاں بھی انہوں نے تقریباً ایک سال کا وقت بہت احسن طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ گزارا ہے۔
پاکستانی کپتان کی طرف سے حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ ان کی وطن واپسی کے لیے کوشش کی جائے۔ وہ ایک سال سے زائد کا عرصہ جہاز پر گزار کر آ رہے ہیں اور اپنے بچوں کے لیے بہت اداس ہیں۔
