چینی اور آٹے کے بعد پاورسیکٹر کی رپورٹ بھی وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ اس شعبے میں قومی خزانے کو 100 ارب کانقصان پہنچایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 278 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ 9 رکنی کمیٹی نے تیار کی، ملکی تاریخ میں پاور سیکٹر پر اس نوعیت کی یہ پہلی رپورٹ ہے۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پاور پلانٹس کے ساتھ معاہدوں کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے آئی پی پیز مالکان سے 100 ارب روپے وصول کرنے کی سفارش کی ہے۔
شوگر ملز اسکینڈل : شیخ رشید نے سنسنی خیز انکشافات کر دیے
چینی تحقیقاتی رپورٹ کے پیچھے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہیں ، جہانگیر ترین کا الزام
جہانگیر ترین کا عمران خان سے تعلقات میں رخنہ آ جانے کا اعتراف
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی پی پیز مالکان نے 350 ارب روپے غیرمنصفانہ طور پر وصول کیے ہیں، ٹیرف، فیول کھپت میں خورد برد، ڈالرز میں منافع دینے کی ضمانت سمیت کئی دیگر وجوہات کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 15 فیصد کے بجائے پاور پلانٹس سالانہ 50 تا 70 فیصد منافع کمانے میں ملوث ہیں، ہر پاور پلانٹ کی قیمت میں 2 سے 15 ارب روپے اضافی ظاہر کر کے بھاری ٹیرف حاصل کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف کول پاور پلانٹس کی لاگت 30 ارب روپے اضافی ظاہر کی گئی ہے۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں آئی پی پیز مالکان سے ٹیک اور پے کی بنیاد پر کپیسیٹی پیمنٹ کا فارمولہ ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
