دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی کورونا وائرس کی وجہ سے روزگار کا سب سے بڑا مسئلہ در پیش ہے، اس سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کا نام ”ری فنانس اسکیم فار پیمنٹ آف ویجز اینڈ سیلریز ٹو دی ورکرز اینڈ ایمپلائز آف بزنس کنسرنس“رکھا گیا ہے۔
اس اسکیم کے مطابق جو بھی ادارہ اگلے تین ماہ تک اپنے ورکرز کی ملازمت یقینی بنائے گا اسے تین ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 5 فیصد شرح سود پر قرض دیا جائے گا اور اگر کاروبار ٹیکس ادا کرنے والوں کی ایکٹو لسٹ میں شامل ہے تو اسے 4 فیصد شرح سود پر قرض ملے گا۔
اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق چھوٹے کاروبار کو اس سے زیادہ فائدہ حاصل ہو گا، اگر ان کی تنخواہوں کے اخراجات 20کروڑ روپے تک ہیں تو انہیں یہ ساری رقم قرض پر مل سکے گی۔
کورونا وائرس: متحدہ عرب امارات میں 10 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی نوکری چلی گئی
آئی ایم ایف کا پاکستان کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی فوری امداد کا اعلان
کورونا وباء کے باعث بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گی، ماہرین معاشیات
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اگر تنخواہوں کی ادائیگی کے اخراجات 50 کروڑ روپے تک ہیں تو پھر آدھی رقم 25 کروڑ روپے تک سستے ریٹ پر قرض حاصل کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح اگر تنخواہ کی رقم 20 کروڑ سے لے کر 50 کروڑ کے درمیان ہے تو 75 فیصد تک سستے ریٹ پر قرض حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ اسکیم بینک کے ذریعے ہی حاصل ہو سکے گی اور بینک ہر ہفتے اسٹیٹ بینک کو رپورٹ کرے گا۔ یہ اسکیم فی الحال تین ماہ کے لیے متعارف کرائی گئی ہے اور حالات کے مطابق اس کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے متعارف کرائی گئی اس اسیکم کے تحت بینک قرض کی طرف سے پروسیسنگ فیس،کریڈٹ لمٹ فیس اور پری پیمنٹ پینالٹی چارجز بھی وصول نہیں کیے جائیں گے۔
اسٹیٹ بینک کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس اسکیم کے تحت حاصل کی گئی رقم کی واپسی دو سال میں کی جا سکے گی اس کے ساتھ ساتھ قرض لینے والوں کو 6 ماہ کی اضافی مہلت بھی دی جا سکے گی۔
اسٹیٹ بینک کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ بینک ہفتہ وار رپورٹ فراہم کریں گے اور خاص طور پر اسٹیٹ بینک کو ان درخواستوں کے بارے میں بتایا جائے گا جن کو کسی بھی وجہ سے رد کیا جائے گا۔
