دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب بھی اس وقت کورونا وباء کی گرفت میں ہے جہاں مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔
سعودی عرب کے وزیر صحت توفیق الربیعہ نے بدھ کے روز خبردار کیا تھا کہ اگلے چند ہفتوں میں سعودی عرب میں اس وباء سے متاثر ہونیوالے افراد کی تعداد دو لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
دو مارچ کو پہلا کیس رپورٹ ہونے کے چھ ہفتوں بعد یہ وبا اب سعودی شاہی خاندان تک پہنچ گئی ہے۔
سعودی عرب نے کورونا کے تمام مریضوں کے مفت علاج کا اعلان کردیا
مسلمان ممالک حج کے لیے ابھی معاہدے نہ کریں، سعودی عرب کا اعلان
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے گورنر 70 سالہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز آل سعود کورونا کا شکار ہو کر اس وقت انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں جبکہ شاہی خاندان کے دیگر 150 افراد میں بھی کورونا وائرس کی اطلاعات ہیں۔
آل سعود خاندان کے افراد کا علاج کرنیوالے کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جس میں 500 بیڈز کو شاہی خاندان اور ان کے قریبی افراد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کی جانب سے سینئر ڈاکٹروں کو بھیجے گئے الیکٹرانک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک اندازہ نہیں کہ کتنے کیسز اسپتال آ سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے الرٹ رہنا ہوگا۔

انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ اسپتال میں موجود مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو جتنا جلد ممکن ہو سکے دوسری جگہوں پر منتقل کیا جائے۔
ایک اندازے کے مطابق سعودی شاہی خاندان 15 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ شاہی خاندان کے قریبی ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ خاندان کے افراد، جن میں ہزاروں شہزادیاں بھی شامل ہیں، میں سے اکثر ہر سال معمول کے دورہ پر یورپ جاتے ہیں، اس لیے خدشہ ہے وہاں سے یہ وائرس لے کر اپنے وطن لوٹے ہیں۔

شاہی خاندان کے افراد کورونا وباء سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ میڈیار پورٹ کے مطابق 84 سالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود بحر احمر پر واقع جدہ شہر کے قریب جزیرے کے ایک محل میں اپنی حفاظت کے لیے رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے 34 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان اپنے متعدد وزراء کے ہمراہ اسی ساحل کے دور دراز مقام پر موجود ہیں جہاں انہوں نے مستقبل میں نیوم کے نام سے نیا شہر بسانے کا وعدہ کیا ہے۔
اسلامی عقیدے کے اہم ستون حج کی ادائیگی کے لیے گزشتہ سال 25 لاکھ مسلمانوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا، حج کا یہ فریضہ 1798ء میں نپولین کی جانب سے مصر پر حملے کے بعد بغیر کسی وقفہ کے ادا ہوتا رہا ہے تاہم موجودہ حالات میں حج کی ادائیگی بھی اس سال غیریقینی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔
