سپریم کورٹ کے تین ججز کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جن ججوں کی تقرری چیلنج کی گئی ہے ان میں جسٹس قاصی امین، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس مظاہر نقوی شامل ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تینوں ججز کی تقرری ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سینارٹی کے مطابق نہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کے مطابق ہوتی ہے۔
اپنی درخواست میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے مطابق انکی کی تقرری سینارٹی کے مطابق سپریم کورٹ میں ہونا تھی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ بار کونسل نے بھی تینوں ججز کی تقرری پر جوڈیشل کمیشن کو اختلافی خط لکھا تھا، آئین کی شق 175اے کے تحت سپریم کورٹ میں جج کی تقرری ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز کی ہوتی ہے اور اسی آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ کے اکثر ججز کی تقرری ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز کی سینارٹی کی بنیاد پر کی گئی جبکہ سپریم کورٹ میں مقرر کئے گئے تینوں ججز درخواست گزار سے جونیئر ہیں۔
درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا کہ عدلیہ کی آزادی ججز کی تقرری کے ساتھ منسلک ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ نے اپنی درخواست میں استدعا کی کہ تینوں ججوں کی تقرری کالعدم قرار دی جائے۔