• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, جون 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

یاد رہے کہ ججز کی جاسوسی پر ایک منتخب حکومت تحلیل کر دی گئی تھی، سپریم کورٹ

by sohail
جون 11, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سننے والے بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے حکومت کے وکیل فروغ نسیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ججز کی جاسوسی کرنے پر ایک منتخب حکومت کو ختم کر دیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں نااہل ہونے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پانامہ کیس کا بھی حوالہ دیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی جاسوسی کرنے کا سوال بھی ہے جبکہ جسٹس منیب اختر نے حکومت کے وکیل سے کہا کہ بہتر ہو گا کہ مس کنڈکٹ کی تعریف دیگر قوانین کے بجائے آئین کے تحت ہی دیکھی جائے، تمام قوانین آئین سے اخذ ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں آج صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے دوبارہ کی۔ عدالت اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے دائر جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے یا نہیں۔

سپریم کورٹ کے تین ججز کی کی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگئی

کس روشن دماغ شخصیت نے غلط قانونی رائے پر ریفرنس بنانے کا مشورہ دیا، سپریم کورٹ

سماعت میں حکومت کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے مس کنڈکٹ پر دلائل دیے۔ سماعت کے دوران جسٹس عمر عطاء بندیال نے وکیل سے کہا کہ اے آر یو سے متعلق 2 تین مثالیں اور بیان کر دیں اور یہ بھی بتائیں کہ ججز کے ضابطہ اخلاق کی قانونی قدغن ہے کہ نہیں۔

انہوں نے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ عدالت آپ کو تفصیل سے سنے گی۔

فروغ نسیم نے دلائل میں کہا کہ بنیادی سوال ہے کہ کیا جج پر قانونی قدعن تھی کہ وہ اہلیہ اور بچوں کی جائیداد ظاہر کرے، درخواست گزار جج کا موقف ہے کہ انکی اہلیہ اور بچے انکے زیر کفالت نہیں، جج کیخلاف کارروائی صرف اسی صورت ہوگی جب جج کا مس کنڈکٹ ہو۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ ٹیکس کا یا کسی اور جرم کا نہیں ہے، مس کنڈکٹ کی آرٹیکل 209 میں تعریف نہیں کی گئی، ہندوستان میں ثابت شدہ مس کنڈکٹ لکھا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 209 میں مس کنڈکٹ کی تعریف نہ کرنا دانستہ ہے، 2009 میں مس کنڈکٹ کی بات کی تو دیگر انتظامی قوانین سے اصول لیے جائیں گے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آئین ہی انتظامی قوانین کو اختیار دیتا ہے، آئین دیگر تمام قوانین کا ماخذ ہے، مس کنڈکٹ کی تعریف دیگر قوانین کے بجائے بہتر ہو گا کہ آئین کے تحت ہی دیکھی جائے۔

سماعت کی تفصیل

فروغ نسیم نے دلائل میں مزید کہا کہ آئین میں زیر کفالت اہلیہ اور خود کفیل اہلیہ کی تعریف موجود نہیں، ایمنسٹی اسکیم کے تحت جج اور انکی اہلیہ پبلک آفس ہولڈر ہیں، جج کی اہلیہ بھی ایمنسٹی نہیں لے سکتیں، بچوں کے لیے تو پھر بھی زیر کفالت یا خود کفیل کا ایشو ہے، اہلیہ کے لیے ایسا کچھ نہیں۔

جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ یا انکی اہلیہ سے ان جائیدادوں کے بارے میں کسی نے نہیں پوچھا۔ فروغ نسیم نے کہا کہ جج سے سوال کرنے کا حق صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو ہے، سپریم جوڈیشل کونسل نے اسی حق کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے جائیدادوں کے بارے میں پوچھا۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ حقیقت میں یہ ثابت کرنا ہے کہ اہلیہ کی جائیداد ظاہر نہ کر کے جج نے قانونی تقاضہ پورا نہیں کیا۔

فروغ نسیم نے دلائل میں پانامہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں نواز شریف صاحب نے یہی کہا تھا کہ بچوں کی جائیداد کا مجھ سے مت پوچھیں، اس کیس میں بھی تینوں جائیدادوں کا آج تک نہیں بتایا گیا، 2018 کی ایمنسٹی اسکیم قانون کے تحت ججز، بیگمات یا انکے زیر کفالت بچے فائدہ نہیں لے سکتے، پاکستان میں تین ایسے قوانین ہیں جسکے تحت ججز اور انکی بیگمات کے لیے اثاثے ظاہر کرنا ضروری ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دیگر شہریوں کو ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں چھوٹ حاصل ہے، لیکن ججز اور اہل خانہ کو ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں چھوٹ حاصل نہیں، آپکی اس بات کا اس کیس سے کیا تعلق۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج سے سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم سوال کر سکتا ہے، اگر ہم آج یہ مان لیتے ہیں کہ جج سے انکی اہلیہ یا زیر کفالت بچوں کے اثاثوں کے بارے میں نہیں پوچھ سکتے تو تباہی ہو گی،

انہوں نے کہا کہ درخواست گزار جج کے بیرون ملک اثاثے تسلیم شدہ ہیں، معزز جج کے اہل خانہ کے بیرون ملک اثاثوں کو گروی نہیں رکھا گیا، پانامہ کیس میں نواز شریف نے بھی کہا تھا مجھ سے نہ پوچھا جائے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آپ یہ کہتے ہیں جو اثاثے تسلیم کیے گئے انکو ظاہر کرنا چاہیے تھا، اگر بیگم آزاد اور اپنی انکم سے اثاثے خرید سکتی ہیں تو اسکی وضاحت بھی بیگم ہی دے سکتی ہیں۔  

جسٹس سجاد علی شاہ نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے کوئی نہیں کہتا کہ نہ پوچھیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بیگم سے پوچھا کہ جائیداد یا فلیٹ کہاں سے لائیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ڈسپلنری ایکشن میں بیگم سے نہیں بلکہ پبلک آفس ہولڈر سے پوچھا جاتا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ نیب قانون میں بھی جس کے نام جائیداد ہوتی ہے اسکو ظاہر کیا جاتا ہے، اگر اصل سورس نہ ملے تو پھر دیگر سے پوچھا جاتا ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63(1) میں ایک شق بنائی گئی ہے، آئین بنانے والوں نے اس میں بھی خود مختار یا زیر کفالت کا ذکر نہیں کیا، قانون میں جج کی بیوہ پینشن لے سکتی ہے، لیکن قانون میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جج کی بیوہ خود مختار ہے یا نہیں۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیوہ مالدار ہے اور کوئی کاروبار کرتی ہے تب بھی وہ پینشن لیتی ہے، اگر کسی جج کی بیوہ آگے شادی کر لیتی ہے تو پھر معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے، ایک 22 گریڈ کے سیکرٹری کے تمام قوانین ججز پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

اپنے دلائل میں انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 19 کے مطابق جہاں جہاں فیڈرل سیکریٹری موجود ہے وہاں اس کے رولز ججز پر لاگو ہو سکتے ہیں، ججز پینشن قانون میں بھی جج کی بیوہ خودمختار ہے یا نہیں اس کو پینشن دینے کا کہا گیا ہے، اس میں بھی خود مختار یا زیر کفالت کی کوئی تقسیم نہیں کی گئی، پنشن کی ادائیگی میں جج کی بیوہ پر کفالت یا زیر کفالت کے اصول کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ چیزوں کو ادھر ادھر نہ لیکر جائیں۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ درخواست گزار پر انکم ٹیکس قانون کی شق 116 کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے استفسار کیاکہ ہمیں اس بارے میں جواب دیں، ہم نے کافی سوالات پوچھے ہیں۔

فروغ نسیم نے یقین دہانی کرائی کہ وہ بھرپور معاونت کریں گے اور اگر یہی رفتار رہی تو دو دن میں دلائل مکمل کر لیں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومت کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے میاں بیوی کے درمیان زیرکفالت سے متعلق سوال نہ کرنے بارے کسی عدالتی فیصلے کا حوالہ نہیں دیا، ہمیں وہ عدالتی فیصلہ دکھائیں جس میں میاں بیوی کے درمیان زیرکفالت ہونے کے نقطے کو ختم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنس میں بدنیتی کا سوال اٹھایا گیا ہے، شواہد کیسے اکٹھے کیے گئے یہ سوال بھی اہم ہے، غیر قانونی طریقے سے شواہد اکٹھے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، اعلیٰ عدلیہ کے جج کی جاسوسی کرنے کا سوال بھی موجود ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ججز کی جاسوسی پر ایک منتخب حکومت کو تحلیل کردیا گیا تھا۔ بعد اذاں کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

Tags: جسٹس قاضی فائز عیسیٰسپریم کورٹ آف پاکستان
sohail

sohail

Next Post

اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں آمریت

ڈونلڈ ٹرمپ کے سکاٹش گالف کورسز کو ایک ملین پاؤنڈ کی ٹیکس چھوٹ ملنے کا انکشاف

ٹریفک قوانین کے نفاذ میں مسائل

کیا جنوبی ایشیاء کورونا وائرس کا نیا مرکز بن رہا ہے؟

بھارت میں 50 ہزار سال پرانی جھیل کا رنگ اچانک سرخ ہونے سے سنسنی پھیل گئی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In