• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, جون 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کے سکاٹش گالف کورسز کو ایک ملین پاؤنڈ کی ٹیکس چھوٹ ملنے کا انکشاف

by sohail
جون 11, 2020
in تازہ ترین, دنیا, معیشت
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کورونا وائرس سے متاثرہ سیاحت کے کاروبار میں بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری بیل آؤٹ پیکج کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسکاٹش گالف کورسز کو تقریباً ایک ملین پاؤنڈ کی ٹیکس چھوٹ مل جائے گی۔

دی گارڈین نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ آرگنائزیشن کے ایبرڈین شائر اور ٹرن بیری میں واقع ریزورٹس کو اسکاٹ لینڈ حکومت کی جانب سے دئیے جانے والی 2.3 ارب پاؤنڈ کی ایمرجنسی مالی امداد سے فائدہ ہو گا۔ اس میں رواں برس مہمان نوازی، تفریحی اور ریٹیل سے متعلق کاروبار کو پراپرٹی ٹیکس کی مد میں ادائیگیوں پر چھوٹ شامل ہے۔

کورونا وائرس کے بحران سے قبل، ٹرمپ ٹرن بیری کو رواں برس 8 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ اور ٹرمپ ایبرڈینشائر کو 12 لاکھ 1 ہزار 170 برطانوی پاؤنڈ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں ادا کرنا تھا۔ حال ہی میں ایک اپیل پر ٹرمپ ٹرن بیری پراپرٹی ٹیکس کم کر کے 7 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ کر دیا گیا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے جنوبی ایرشائر کی مقامی کونسل جس میں ٹرن بیری پراپرٹی واقع  ہے، اور ایبرڈینشائر کونسل ٹرمپ کی دونوں کاروباری پراپرٹیز کو آگاہ کریں گے کہ انہیں اب ٹیکس کی مد میں کس قسم کی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی کیونکہ وہ کاروباری ریلیف حاصل کرنے کے لیے 100 فیصد اہل ہیں۔

دونوں ریزورٹس کارپوریشن ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے میں کامیاب رہے ہیں، جو کہ برطانیہ کا ایک اہم بزنس ٹیکس ہے کیونکہ وہ ٹرمپ کو دیئے جانے والے قرضوں کے باعث ہونے والے بھاری نقصانات سے  مسلسل آگاہ کرتے رہے جو کہ 2018 میں  مجموعی طور پر 155 ملین پاؤنڈ تک پہنچ گئی تھی۔

یہ انکشافات کچھ ڈیموکریٹس کی وجہ سے سامنے آئے جنہوں نے امریکی کانگریس میں سوالات اٹھائے کہ آیا یہ قانونی طور پر صحیح ہے کہ ٹرمپ کی کمپنیز ایک غیر ملک سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کریں جن میں برطانیہ اور اسکاٹش حکومت کی جانب سے دئیے جانے والے ایمرجنسی بیل آؤٹ فنڈ شامل ہیں۔

ایوان کی نگران کمیٹی نے ٹرمپ آرگنائزیشن سے کہا ہے کہ وہ کمپنی کے قرضوں اور دیگر فنڈز کے لیے دی جانے والی درخواستوں سے متعلق تمام دستاویزات 21 مئی تک کمیٹی کو فراہم کرے گا، لیکن کمپنی کی جانب سے اس کی تعمیل کے ثبوت نہیں ملے۔

امریکی کانگریس نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کا مقصد ٹیکس دہندگان کے فنڈز کے استعمال کو ایسی کمپنیوں جن میں ٹرمپ حصہ دار ہوں، کو فائدہ دینے سے روکا گیا ہے۔ 

 سٹیزنز فار ریسپونسیبلٹی اینڈ ایتھکس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نوحا بکبائنڈر کا کہنا ہے کہ یہ بات پریشان کن ہے کہ وہ بنیادی طور پر اسکاٹش حکومت سے فائدہ لے رہے ہیں قطع نظر اس کے کہ یہ ایک معاوضہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے پاس ایسا صدر نہیں ہونا چاہیے جو اس قسم کے منصب پر فائز ہو۔

اسکاٹ لینڈ میں ٹرمپ آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو سارہ مولون نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے کورونا وائرس ایمرجنسی فنڈ اسکیم کو استعمال کیا ہے لیکن انھوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔ تاہم مولون نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ ٹرمپ کے دونوں ریزورٹس کو پراپرٹی ٹیکس میں ریلیف ملا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کورونا وائرس سے سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری بری طرح سے متاثر ہوئی ہے اور اس شعبے سے منسلک تمام کاروبار مزید تجارت کرنے کے قابل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے عملے اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود ہماری ترجیح ہے، اس سلسلے میں حکومت کی یہ اسکیم ایسے لوگوں کے روزگار کو بچانے کیلیے ہے جو اس وقت کام نہیں کر سکتے اور مزید یہ کہ برطانیہ میں بہت سارے ایسے کاروباری افراد نے بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے جو کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند ہفتے قبل واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے  اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے امریکی حکومت صدر ٹرمپ کی کمپنی کو کم از کم 9 لاکھ 70 ہزار ڈالرز کی ادائیگی کر چکی ہے جس میں ٹرمپ کے ہوٹلوں اور کلبوں میں 1600 سے زائد راتوں کے لیے کرایوں پر لیے گئے کمروں کی ادائیگیاں شامل ہیں۔

Tags: ڈونلڈ ٹرمپ
sohail

sohail

Next Post

ٹریفک قوانین کے نفاذ میں مسائل

کیا جنوبی ایشیاء کورونا وائرس کا نیا مرکز بن رہا ہے؟

بھارت میں 50 ہزار سال پرانی جھیل کا رنگ اچانک سرخ ہونے سے سنسنی پھیل گئی

مہنگی بجلی کاروباری لاگت میں اضافے کا سبب

حکومت نے کیسے چھلانگ لگائی کہ خاوند جج ہے تو وہی جائیداد کا بتائے؟ سپریم کورٹ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In