پاکستان تحریک انصاف حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
اکنامک سروے 2019_20 کے مطابق مالی سال 2020 اپریل تک بجلی کی نصب شدہ صلاحیت 35 ہزار 972 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جو کہ اپریل 2019 میں 33 ہزار 452 میگاواٹ تھی۔ اس طرح بجلی کی گروتھ میں 7.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
سروے کے مطابق توانائی کے شعبے میں بجلی کی رسد یا فراہمی میں رکاوٹوں نے گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے ملکی معیشت پر برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انرجی سروسز کی باآسانی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اور اس کے حصول کیلئے توانائی کے شعبے میں مؤثر منصوبوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔
سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں اضافی گنجائش کی وجہ سے بجلی جنریشن کی طرف سے پیدا ہونے والی روکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن کی بری کارکردگی توانائی کی مستقل بنیادوں پر فراہمی میں رکاوٹ کا باعث ہے۔
سروے کے مطابق بجلی کی کھپت کے پیٹرن میں کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں ہوئی، تاہم مالی سال اپریل تا جولائی 2020 میں بجلی کی کھپت میں زراعت کا شئیر کم ہوا ہے جس کو اہم فصلوں کے لیے بارش کے پیٹرن میں بہتری کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کی کھپت میں گھروں کا حصہ پہلے سے بڑھ گیا ہے۔
پی پی آئی بی نے حکومت پاکستان کے ایک فرنٹ لائن ادارے کے طور پر سی پیک پروگرام کے تحت توانائی پورٹ فولیو کے بیشتر حصے کو لاگو کیا ہے اور اب تک بہترین نتائج حاصل کرنے کامیاب رہا ہے۔ پی پی آئی بی اب تک نہ صرف مشہور و معروف مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں کامیاب رہا بلکہ 40 انڈیپنڈنٹ پاور پراجیکٹس کو بھی کامیابی کے ساتھ حاصل کیے جس سے مجموعی طور پر 20 ارب ڈالر سرمایہ کاری اور 17 ہزار 550 میگاواٹ بجلی حصول شامل ہے۔