جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست سننے والے فل کورٹ بینچ نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومت نے یہ چھلانگ کیسے لگائی کہ خاوند سپریم کورٹ کا جج ہے تو وہی جائیداد کا بتائے گا، اس کیس کے پس منظر میں بھی ہمیں کسی مس کنڈکٹ کا کوئی متعلقہ قانون نظر نہیں آ رہا، حکومت نے اس پورے معاملے میں درست قوانین کا استعمال ہی نہیں کیا، حکومتی وکیل تحریری دلائل دیں تاکہ سمجھ تو آئے کہ حکومت کہنا کیا چاہ رہی ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر دوبارہ سماعت کی۔
سماعت کا احوال
سماعت کے موقع پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے بیرسٹر فروغ نسیم کو کہا کہ آپ ہمیں تمام حوالہ جات تحریری شکل میں دے دیں۔ تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ رول آف پراکسیمٹی کیسے ٹیکس معاملات سے متعلق ہے؟ عدالت کو یہ بھی بتائیں کہ آے آر یو کے علاوہ اور کون سی ایسی ایجنسیاں ہیں جو بتائے گئے رولز کے تحت بنی ہیں؟
انہوں نے ریمارکس دیے کہ مجھے ایسی کوئی ایجنسی نہیں ملی جو ان رولز کے تحت بنی ہو۔ فروغ نسیم نے کہا کہ پراکسیمٹی کا رول ایک بنیادی رول ہے، اگر کوئی جج اپنی اہلیہ جو اس کے زیر کفالت ہے یا نہیں اس کے اثاثوں کی تفصیلات دینے میں ناکام رہا تو یہ مس کنڈکٹ ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر سپریم کورٹ کی کوئی جج خاتون ہے تو کیا وہ اپنے شوہر کے اثاثوں کی تفصیلات دینے کی پابند ہے؟ لفظ سپاؤس کی تعریف اور وضاحت ہونا ضروری ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے فروغ نسیم کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ بالکل نیا کیس بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ یہ کیس بنیادی طور پر ٹیکس قانون کے سیکشن 116 سے متعلق نہیں ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ کی اہلیہ ٹیکس ریٹرنز جمع کراتی ہیں تو پھر وہ خود کفیل کیسے نہیں۔ سماعت کے دوران فروغ نسیم نے قرآنی آیات اور شریعت کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کہتا ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہیں جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا اس آیت کا جج کے کیس سے کوئی تعلق ہے؟ یہ آیت تو اس قوم کے ہر فرد پر لاگو ہوتی ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں اس آیت کا شانِ نزول کیا ہے؟ نہ آپ فقہی ہیں اور نہ ہم ہیں، اس کا شانِ نزول یہ تھا کہ روزوں میں مرد کا عورت کے پاس جانا منع تھا، ایک صحابی رسول اللّٰہ ﷺ کے پاس گئے اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں۔
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ یہ آیات اس کیس سے متعلقہ نہیں ہے، آپ ہمیں ایک خطرناک صورتحال کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں عورت کو حقوق حاصل نہیں؟ کیا وہ پراپرٹی نہیں خرید سکتی؟ یا وہ آزاد اور خود مختار نہیں ہے۔
جب فروغ نسیم نے جواب میں کہا کہ بالکل آزاد ہے توجسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر ہے تو آپ چھلانگ لگا کر اس کے شوہر سے کیسے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ اس کے اثاثوں کا جواب دے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ایک جج کو گاڑی، گھر اور دیگر سہولیات ملتی ہیں لیکن اس کی فیملی بھی ان کو انجوائے کرتی ہے، آپ کے دلائل پر منطق بنتی نظر نہیں آتی، قرآن پاک کو ہم نے ادب سے پڑھنا ہے، غیر ضروری اور غیر متعلقہ باتوں میں اس کا حوالہ نہ دیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے حکومت کے وکیل کو کہا کہ اگر درخواست گزار جج جواب دینے سے انکار کرتے ہیں تو آپ اس ٹیکس قانون کی شق 116 سے نکل کر مس کنڈکٹ بنا لیتے لیکن یہاں تو سوال نہیں کیا گیا اور مس کنڈکٹ کا الزام لگا کر ریفرنس بھیج دیا۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ جج منی ٹریل نہیں دیتا تو مس کنڈکٹ ہو گیا۔ جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ پہلے جائیدادوں سے تعلق ثابت کریں، منی ٹریل کا تب سوال بنے گا جب آپ یہ ثابت کر لیں گے کہ وہ جائیدادیں جج نے خریدی ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی کہا کہ سوال یہ ہے کہ جائیدادیں بیوی کی ہیں، اس کا جج صاحب سے تعلق ثابت کریں، کیا آپ بیوی سے تعلق کی بنیاد پر جج سے جواب مانگیں گے؟ ساتھ ہی جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ کتنی پڑھی لکھی بیویاں ہوتی ہیں جن کو شوہروں کی جائیدادوں کا علم بھی نہیں ہوتا، حتیٰ کہ ان کو دوسری بیوی کا بھی پتا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ جج کا احتساب ہونا چاہیے وہ قانون نے بالاتر نہیں ہے، لیکن یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جج احتساب سے بالاتر ہیں اور کسی کو جواب دہ نہیں، البتہ احتساب قانون کے مطابق ہونا چاہیے، ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حساب دینا چاہتے ہیں۔
سماعت کے دوران فروغ نسیم نے جبرالٹر کے چیف جسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی اہلیہ وکیل تھی، اہلیہ نے بار کے ساتھ بدتمیزی کی، ایک جج کو بیوی کے بار کو نوٹس بھیجنے پر نکال دیا گیا، یہاں تو بیوی کے نام پر ملین پاونڈ کی جائیدادیں ہیں۔
انہوں نے بھارتی جج کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے کیس میں بھی بے نامی جائیدادیں نکلیں، بھارتی جج نے کہا کہ یہ اسکی بیوی کی ہیں، بھارتی جج نے بھی قاضی فائز عیسیٰ کی طرح درخواست دائر کی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ بھارتی جج کے خلاف تحقیقات میں ثابت ہو چکا تھا کہ بیوی بے نامی دار ہے یہاں معاملہ بالکل مختلف ہے یہاں تو جائیداد ظاہر ہے اور کوئی جائیداد نہیں چھپائی گئی۔
انہوں نے استفسار کیا کہ اس کیس میں تحقیقات میں ثابت کیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ بے نامی دار ہیں؟
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جو حوالہ آپ دے رہے ہیں وہ اس سے متعلق نہیں ہے، پہلے ثابت تو ہو جاتا کہ جج بے نامی دار ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے فروغ نسیم کو کہا کہ پھر آپ یہی ثابت کریں کہ جائیدادیں بے نامی دار ہے، پہلے آپ بیوی کو بے نامی دار ثابت کرتے پھر سپریم جوڈیشل کونسل آتے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ مس کنڈکٹ ایک مختلف معاملہ ہے جس کے خلاف کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل ہی کر سکتی ہے تو جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ پہلے ایف بی آر کی کارروائی بنتی تھی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا کوئی قانونی تقاضا ہے جو جج کو مجبور کرے کہ وہ بیوی کے اثاثوں کا جوابدہ ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کے پس منظر میں بھی ہمیں کوئی مس کنڈکٹ کا کوئی متعلقہ قانون نظر نہیں آرہا، حکومت نے اس پورے معاملے میں درست قوانین کا استعمال ہی نہیں کیا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں ججز کا ٹرائل بھی کیا جاتا ہے، یہاں تو معاملہ صرف ضابطے کی کاروائی کا ہے، اگر بیوی اور بچوں کی ناقابلِ وضاحت جائیدادیں ہوں تو سوال کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ جائیدادیں آپ نے ناقابلِ وضاحت کیسے کہہ دیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق برطانیہ میں آن لائن جا کر کسی بھی شخص کا نام ڈالیں تو جائیداد کی تفصیلات آ جاتی ہیں لیکن جو خاکہ آب نے جمع کرایا ہے وہ غلط ہے، میں نے دیکھا ہے جب تک آپ جائیداد کا پتہ نہیں ڈالیں گے اس کے مالک کا نام نہیں آئے گا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ بدنیتی، غیر قانونی طریقوں سے مواد اکٹھا کرنا اور دیگر سوالات کا جواب مجھے دینے ہیں، عدالت نے فروغ نسیم سے تحریری دلائل طلب کر تے ہوئے آئندہ سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔
