تھائی لینڈ میں بسنے والی ایک اکیلی ماں نے چہرے کی ڈھالیں بنانے کا کاروبار شروع کیا ہے جس میں وہ کارٹون، گیمز اور سائنس فکشن فلموں کے کرداروں کو فیس شیلڈز پر آویزاں کرتی ہیں تاکہ اسے بچوں کے لیے پرکشش بنایا جا سکے۔
یہ کام وہ اس امید کے ساتھ کرتی ہے کہ بچوں کی حفاظت کو فروغ دیا جائے کیونکہ اس کا ملک حال ہی میں کورونا وبا کے خلاف فتحیاب ہوا ہے۔
31 سالہ میسا ٹیلرڈ اپنے چھوٹے سے کمرے پر مشتمل اسٹوڈیو سے مختلف نمونوں کو ڈیزائن کرتی ہیں اور بڑی احتیاط سے مشہور افسانوی سپر ہیروز اور ویلنز کے اسٹیکرز کو چہروں کی ڈھالوں پر چپکا دیتی ہیں، ان کا مطمح نظر سیفٹی اور اسٹائل کو ملانا اور اپنے کاروبار کو وسعت دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر فیس شیلڈ ٹرانسپیرنٹ ہوتے ہیں جس سے لوگ جلد بیزار ہو جاتے ہیں، لیکن یہ مزاحیہ ڈیزائن لوگوں کا حوصلہ بڑھائیں گے تاکہ وہ انہیں پہننے لگیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ کم ازکم ان کرداروں کے ساتھ بچے ضرور اس شیلڈ کو پہننا پسند کریں گے اور اسکول میں اپنے دوستوں کو بھی دکھائیں گے۔
چند ماہ قبل میسا کی آمدن کا کوئی ذریعہ نہ تھا لیکن اب وہ معاشی طور پر اپنے آپ کو مضبوط بنانے کی راہ پر گامزن ہے کیونکہ وہ اب ایک ہی وقت میں تقریباً 50 سے 100 شیلڈز بنانے کے آرڈرز وصول کر رہی ہے جہاں وہ ایک شیلڈ کو تقریباً 6 ڈالر میں فروخت کرتی ہے۔
میسا کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے مستقبل میں یہ میرے لیے آمدن کا اہم ذریعہ بن جائے کیونکہ کھلونے بیچنے والے اسٹور مجھے ہول سیل فروخت کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔
تھائی لینڈ اپنی معیشت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش میں عائد پابندیوں میں نرمی کر رہا ہے۔ تاہم وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سماجی دوری کے اقدامات کو برقرار رکھا گیا ہے۔
ملک بھر میں اب تک کورونا کے باعث 58 اموات ہوئی ہیں جبکہ 3125 مصدقہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت صحتیاب ہو گئی ہے، 17 روز سے کورونا کا نیا مریض سامنے نہیں آیا۔