ایک ابتدائی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن مریضوں کو کورونا کے باعث اسپتال نہیں جانا پڑتا ان میں بیماری کی علامات کئی ہفتے جاری رہ سکتی ہیں۔
کورونا کے 272 مریضوں کا جائزہ لینے کے بعد ریسرچرز کو معلوم ہوا کہ 41 فیصد کو علامات ظاہر ہونے کے تین ہفتے بعد تک کھانسی، 24 فیصد کو تھوڑی سی مشقت پر سانس لینے میں دقت اور 23 فیصد سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی قائم رہی۔
کورونا وائرس کی نئی علامات سامنے آ گئیں، کل تعداد 9 ہو گئی
کورونا مریضوں کی بڑی تعداد میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، نئی تحقیق میں انکشاف
6 ماہ میں کورونا کے متعلق ہم نے کیا سیکھا؟ اگلے 6 ماہ کیسے ہوں گے؟
ریسرچ کے شرکاء میں کورونا کی تشخیص ناک کے ذریعے لیے گئے مواد سے کی گئی اور ان کا علاج جارجیا کے ورچوئل آؤٹ پیشنٹ مینیجمنٹ کلینک میں کیا گیا۔
ریسرچرز نے مریضوں کے 20 روز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور ہر 12 سے 18 گھنٹوں کے درمیان ان سے فون پر علامات کے متعلق دریافت کیا جاتا رہا۔
سب سے زیادہ ظاہر ہونے والی علامات میں کھانسی، چکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت سے محرومی، سانس لینے میں تکلیف اور جسم میں درد شامل تھیں، چند مریضوں میں نظام انہظام میں خرابی کا مسئلہ ظاہر ہوا، 10 فیصد کو تین ہفتوں تک اسہال کی شکایت رہی۔
تحقیق کا ابھی دیگر سائنسدانوں نے تجزیہ نہیں کیا، اس لیے یہ ابھی تک ابتدائی مراحل کی ریسرچ سمجھی جائے گی، ایسی تحقیق کا مقصد دیگر سائنسدانوں کو شامل کر کے ایک وسیع تر بحث کا آغاز کرنا ہوتا ہے جس کے بعد حتمی نتائج سامنے آتے ہیں۔
بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر جوشوا بروکس نے نیوز ویک سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس تحقیق سے ہمیں ان علامات کا پتا چلتا ہے جو تین ہفتوں تک یا اس سے بھی زیادہ دیر قائم رہ سکتی ہیں، اس سے ڈاکٹر کو مریض کی توقعات کے حوالے سے بہتر معلومات ملتی ہیں۔