بھارتی ریاست مہاراشٹر میں موجود 50 ہزار سال پرانی جھیل کا رنگ سرخ ہونے پر ملک بھر میں سنسنی پھیل گئی ہے جبکہ ماہرین ابھی تک اس کی وجہ نہیں جان پائے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کی ایک ممکنہ وجہ پانی میں نمکیات کی زیادتی ہونا ہے، اسی طرح بغیر جڑوں والے الجئی پودے بھی اس کا سبب ہو سکتے ہیں، کچھ ماہرین کے خیال میں دونوں وجوہات بھی ممکن ہیں۔
ایک مقامی جیالوجسٹ گجنن کھرات نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ جھیل کا رنگ اس سال سرخ ہو گیا ہے کیونکہ پانی میں نمکیات کی مقدار بڑھ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جھیل میں پانی کی سطح پر بھی کم ہوئی ہے جس کی وجہ سے نمکیات اوپر ابھر آئے ہیں اور اندرونی تبدیلیوں کا سبب بنے ہیں۔
کھرات نے کہا کہ ماہرین اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ کہیں الجئی کے پانی کی سطح پر آ جانے کی وجہ سے پانی کا رنگ سرخ تو نہیں ہو گیا؟
انہوں نے بتایا کہ پانی کے کئی سیمپل مختلف لیبارٹریوں میں بھیج دیے گئے ہیں، ان کے ٹیسٹ کے بعد ہی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔
اس سے قبل 2018 میں امریکی ریاست اوٹا کی جھیل کا پانی آدھا سرخ اور آدھا نیلا ہو گیا تھا، اس کی وجہ بھی ایک حصے میں نمکیات میں اضافہ بتایا گیا تھا۔

بھارت میں جھیل کا رنگ سرخ ہونے سے سنسنی پھیل گئی ہے اور کئی لوگ اسے خطرے کی علامت سمجھ رہے ہیں، کورونا وبا کے باعث ان کا خیال ہے کہ شاید وائرس بہت بڑی تباہی پھیلائے گا۔