• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, جون 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

چیئرمین قومی احتساب بیورو نے نیب رولز کا مجوزہ ڈرافٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا

by sohail
اگست 27, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جانب سے نیب رولز کا مجوزہ ڈرافٹ تیار کر کے سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا گیا ہے۔

چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ میں 42 صفحات پر مشتمل دستاویزات جمع کرائی ہیں جس میں مجوزہ ڈرافٹ بھی شامل ہے۔ دستاویزات کے مطابق  نیب شکایت وصولی کے ایک ماہ کے اندر ریجنل بورڈ کے سامنے معاملہ پیش کرتا ہے،  انکوائری کا عمل 4 ماہ کے اندر مکمل ہوتا ہے جبکہ چیئرمین نیب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انکوائری کی مدت میں مزید 3 ماہ توسیع کر سکیں۔

نیب کا تفتیشی افسر 4 ماہ میں تفتیش مکمل کر کے ریجنل بورڈ کے سامنے رکھتا ہے اور ضرورت کے تحت مجاز اتھارٹی تحقیقات کی مدت کو بڑھا بھی سکتی ہے۔

تحقیقات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریفرنس کا مرحلہ آتا ہے جسے دائر کرنے یا نہ کرنے کا حتمی اختیار چیئرمین نیب کے پاس ہے، ان کے فیصلے پر نیب اتھارٹی سوال نہیں اٹھا سکتی، ان کی منظوری کے بعد ریفرنس ایک ماہ میں دائر کیا جاتا ہے۔

چیئرمین نیب انکوائری کے دوران کسی مرحلے پر ملزم کی گرفتاری  کا حکم دے سکتے ہیں جبکہ نیب وزارت داخلہ کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کسی بھی ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کر سکتا ہے۔ 

بینک ڈیفالٹ کی صورت میں ریکوری کر کے 3 فیصد رقم فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرائی جاتی ہے  جبکہ کرپشن کے کمائے گئے پیسے کا 25 فیصد فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرایا جاتا ہے اور ریکوری اینڈ گرانٹس رولز 2002 کے تحت لوٹی گئی ملکی دولت کا 25 فیصد حصہ نیب کو تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی صورت دیا جاتا ہے۔

دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب میں تقرریاں سیلیکشن بورڈ کے ذریعے کی جاتی ہیں، سیلیکشن بورڈ گریڈ 21 کے تین نیب افسران پر مشتمل ہوتا ہے، نیب میں کام کرنے کا تجربہ نہ رکھنے والے فرد کے لیے گریڈ 17 کے افسر کی جانب سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری ہے اور عوامی مفاد کے تحت مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد افسران کا تبادلہ ایک کیڈر سے دوسرے کیڈر میں ہو سکتا ہے۔

نیب رولز بنانے کا حکم سپریم کورٹ نے 23 جولائی کو دیا تھا۔عدالتی کارروائی کے دوران فریق مقدمہ نے اعتراض اٹھایا تھا کہ نیب اپنے امور ایس او پیز کے ذریعے چلا رہا ہے جس پر عدالت  نے اپنے حکم میں قرار دیا گیا تھا کہ ایس او پیز رولز کا متبادل نہیں ہو سکتے، عدالتی حکم میں نیب قانون کی شق 34 کے تحت رولز بنا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

Tags: چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبالسپریم کورٹ آف پاکستاننیب رولز کا ڈرافٹ
sohail

sohail

Next Post

این سی او سی اجلاس، تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کا امکان

پی ٹی آئی حکومت کے 2 برس کے دوران بیرونی قرضوں میں 17.6 ارب ڈالرز کا اضافہ

کراچی میں بارشوں کا 53 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، 12 افراد جاں بحق

ویرات کوہلی کے گھر جنوری 2021 میں ننھے مہمان کی آمد متوقع

ڈی پی اوز فنڈز خوردبرد کیس، اکاؤنٹنٹ وعدہ معاف گواہ بن گئے، اہم انکشافات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In