چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جانب سے نیب رولز کا مجوزہ ڈرافٹ تیار کر کے سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا گیا ہے۔
چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ میں 42 صفحات پر مشتمل دستاویزات جمع کرائی ہیں جس میں مجوزہ ڈرافٹ بھی شامل ہے۔ دستاویزات کے مطابق نیب شکایت وصولی کے ایک ماہ کے اندر ریجنل بورڈ کے سامنے معاملہ پیش کرتا ہے، انکوائری کا عمل 4 ماہ کے اندر مکمل ہوتا ہے جبکہ چیئرمین نیب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انکوائری کی مدت میں مزید 3 ماہ توسیع کر سکیں۔
نیب کا تفتیشی افسر 4 ماہ میں تفتیش مکمل کر کے ریجنل بورڈ کے سامنے رکھتا ہے اور ضرورت کے تحت مجاز اتھارٹی تحقیقات کی مدت کو بڑھا بھی سکتی ہے۔
تحقیقات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریفرنس کا مرحلہ آتا ہے جسے دائر کرنے یا نہ کرنے کا حتمی اختیار چیئرمین نیب کے پاس ہے، ان کے فیصلے پر نیب اتھارٹی سوال نہیں اٹھا سکتی، ان کی منظوری کے بعد ریفرنس ایک ماہ میں دائر کیا جاتا ہے۔
چیئرمین نیب انکوائری کے دوران کسی مرحلے پر ملزم کی گرفتاری کا حکم دے سکتے ہیں جبکہ نیب وزارت داخلہ کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کسی بھی ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کر سکتا ہے۔
بینک ڈیفالٹ کی صورت میں ریکوری کر کے 3 فیصد رقم فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرائی جاتی ہے جبکہ کرپشن کے کمائے گئے پیسے کا 25 فیصد فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرایا جاتا ہے اور ریکوری اینڈ گرانٹس رولز 2002 کے تحت لوٹی گئی ملکی دولت کا 25 فیصد حصہ نیب کو تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی صورت دیا جاتا ہے۔
دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب میں تقرریاں سیلیکشن بورڈ کے ذریعے کی جاتی ہیں، سیلیکشن بورڈ گریڈ 21 کے تین نیب افسران پر مشتمل ہوتا ہے، نیب میں کام کرنے کا تجربہ نہ رکھنے والے فرد کے لیے گریڈ 17 کے افسر کی جانب سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری ہے اور عوامی مفاد کے تحت مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد افسران کا تبادلہ ایک کیڈر سے دوسرے کیڈر میں ہو سکتا ہے۔
نیب رولز بنانے کا حکم سپریم کورٹ نے 23 جولائی کو دیا تھا۔عدالتی کارروائی کے دوران فریق مقدمہ نے اعتراض اٹھایا تھا کہ نیب اپنے امور ایس او پیز کے ذریعے چلا رہا ہے جس پر عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا گیا تھا کہ ایس او پیز رولز کا متبادل نہیں ہو سکتے، عدالتی حکم میں نیب قانون کی شق 34 کے تحت رولز بنا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔