پاکستان کے بیرونی قرضوں اور واجبات میں گزشتہ 2 برس کے دوران 17 ارب 60 کروڑ ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ 112 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 2 برسوں کے دوران لیے گئے قرض کا 87 فیصد پبلک جبکہ بقیہ نجی سیکٹر کی جانب سے لیا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر کے قرضوں کی براہ راست یا بالواسطہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تھی تو پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرضے اور واجبات 95 ارب 20 کروڑ ڈالرز تھے۔
ایکسپریس ٹریبون میں شہباز رانا کی خبرکے مطابق جون 2018 میں ڈالر کی قدر 121.54 روپے تھے جو اس وقت 162.2 روپے تک پہنچ چکی ہے، 2 برسوں کے دوران روپے کی قدر میں 38.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
حکومت نے گزشتہ 2 برسوں کے دوران ساڑھے 24 ارب ڈالرز کے قرضے اور ان پر سود واپس بھی کیا ہے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پاکستان قرض کے گھن چکر میں پھنس گیا ہے اور پرانے قرض اتارنے کے لیے نئے قرضے لینے پر مجبور ہے۔
ملکی اور غیرملکی قرضوں کی اس قدر بھاری مقدار اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان میں قرض کے بغیر آنے والی رقوم اسقدر نہیں ہیں جن سے بیرونی اکاؤنٹ کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
پاکستان کی برآمدات کئی برسوں سے 22 اور 24 ارب ڈالرز کے درمیان رہی ہیں جس کی وجہ سے ہر حکومت کو بیرونی ذرائع سے قرض لینا پڑتا ہے۔
اگر واجبات سے ہٹ کر صرف بیرونی قرض دیکھا جائے تو 2 برس قبل یہ 75.4 ارب ڈالرز تھا جو بڑھ کر تقریباً 88 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا ہے، اس دوران بیرونی قرضوں میں ساڑھے 12 ارب ڈالرز یا 16.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت کے 2 برسوں کے دوران مجموعی قرضے جی ڈی پی کا 87 فیصد ہو گئے ہیں جو اس سے قبل 72.5 فیصد تھے۔
اس میں حکومت کا براہ راست قرضہ 70.2 ارب ڈالرز ہے، اس میں حکومت کی ضمانت پر لیا گیا پبلک سیکٹر انٹرپرائز قرضہ شامل نہیں ہے۔
پاکستان کے واجبات 2 برس قبل 5.1 ارب ڈالرز تھے جو بڑھ کر 9.9 ارب ڈالرز ہو گئے ہیں، اس کی وجہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے لیا گیا قرض ہے۔
جون 2018 میں زرمبادلہ کے ذخائر 9.8 ارب ڈالرز کی سطح پر تھے جو رواں برس جون میں بڑھ کر 12.5 ارب ڈالرز ہو گئے ہیں۔
اگر روپوں میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت نے 2 برسوں کے دوران مجموعی قرض میں 113 ارب 50 کروڑ روپے کا اضافہ کیا ہے۔