نیوزی لینڈ کی مساجد میں 51 نمازیوں کو شہید کرنے والے آسٹریلوی باشندے برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت نے ملکی تاریخ کی سخت ترین سزا دے دی ہے لیکن اس معاملے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ چونکہ مجرم ان کے ملک کا شہری ہے تو اسے اپنی بقیہ سزا مکمل کرنے کے لیے آسٹریلیا بھیجا جا سکتا ہے۔
نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گردی کے مجرم کو ملکی تاریخ کی بدترین سزا
انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک مجرم کو آسٹریلیا بھجوانے کے آئیڈیا پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
سکاٹ موریسن نے بتایا کہ انہیں ٹیرنٹ کی آسٹریلیا منتقلی کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی لیکن وہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کے ساتھ اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سیون نیوز ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں کہ ٹیرنٹ نیوزی لینڈ میں قید رہے یا آسٹریلیا میں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے فیصلوں کے یقیناً بہت سے نتائج سامنے آ سکتے ہیں، میں اور جسینڈا آرڈرن ان ایشوز پر بات کریں گے۔
آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ ٹیرنٹ کے مستقبل کے متعلق اس واقعہ میں بچ جانے والے اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی خواہشات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔
برینٹن ٹیرنٹ کا تعلق نیو ساؤتھ ویلز کے قصبے گریفٹن سے ہے جہاں وہ ایک جم میں انسٹرکٹر تھا، وہ 2017 میں نیوزی لینڈ منتقل ہوا اور اسی برس اس نے مسلمانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔
حکومتی دستاوزات کے مطابق برینٹن کو جیل میں رکھنے پر آسٹریلیا میں روزانہ 4900 نیوزی لینڈ ڈالرز کا خرچ آئے گا جبکہ نیوزی لینڈ میں اسے قید رکھنے پر 302 ڈالرز روزانہ خرچ ہوں گے۔
اس بات کا امکان ہے کہ اسے تحفظ کے پیش نظر نیوزی لینڈ میں آک لینڈ کی جیل میں تنہا رکھا جائے گا جہاں 80 فیصد قیدیوں کا تعلق ماؤری یا پیسیفک جزیروں سے ہے۔
If he transfer there he could applied there for freedom, due to he didn’t commit crime there