امریکی انتخابات میں نسلی امتیاز ایک بہت بڑے فیکٹر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں نے نہ صرف سماجی تقسیم عیاں کر دی ہے بلکہ سیاہ فام اور دیگر قومیتوں کے ووٹوں کی اہمیت بی بڑھا دی ہے۔
اس ماحول میں باسکٹ بال کے عظیم سیاہ فام کھلاڑی لیبران جیمز ملکی سیاست کے ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر ابھر رہے ہیں جو صدر ٹرمپ پر اپنی بے رحمانہ تنقید کی وجہ سے اپنی کمیونٹی میں غیرمعمولی اہمیت حاصل کر گئے ہیں۔
امریکہ میں مظاہرے، صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس کے بنکر میں چھپنا پڑا
امریکہ میں مظاہرے شدت اختیار کر گئے، 16 ریاستوں، 25 شہروں میں کرفیو نافذ
جیمز ایک منہ پھٹ ایکٹیوسٹ کے طور پر ابھرے ہیں جنہوں نے ایک ایسا گروپ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو سیاہ فام کمیونٹی کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے خلاف متحرک ہے۔
انہوں نے فٹ بال کی اہم ترین آرگنازیشن این بی اے میں نسلی انصاف اور بلیک لائیوز میٹر تحریک کو تسلیم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، انہی کی کوششوں کی وجہ سے پلے آف گیمز کو منسوخ کر دیا گیا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اسے سیاسی آرگنازیشن قرار دے دیا۔
جیمز نے کھلے عام جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا ہے، ان کا سیاہ فاموں پر اثرورسوخ اگلے انتخابات میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتا ہے، اگر سیاہ فام ووٹ ڈالنے کے لیے کثیر تعداد میں باہر نکل آئے تو ٹرمپ مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
35 سالہ جیمز باسکٹ بال کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، وہ 16 مرتبہ این بی اے آل سٹار کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے اتوار کو کینوشا میں ایک سیاہ فام کو گولی مارنے کے واقعہ کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا ہے، اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں بے چینی پھیل گئی تھی۔
اس سے قبل سیاہ فام جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں قتل نے امریکہ میں بڑے پیمانے پر ہنگاموں کو جنم دیا تھا، کینوشا کے واقعہ نے ایک مرتبہ پھر سے نسلی امتیاز کے خلاف بولنے والی آوازوں کو تقویت دی ہے۔
لیبران جیمز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہم تبدیلی چاہتے ہیں، ہم اس سب سے تھک چکے ہیں۔
جیمز کی قیادت کے اثرات اب وائٹ ہاؤس میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ وہ جمیز سے ملاقات کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا فریقین اکٹھے کر سکتے ہیں یا نہیں۔