چین اور بھارت کی فوجوں کے درمیان لڑائی کو 4 ماہ ہونے کو ہیں مگر ابھی تک مذاکرات کے کئی دور چلنے کے باوجود چینی فوجیں اپنی پرانی پوزیشن پر واپس جانے کو تیار نہیں ہیں۔
دونوں ممالک کے فوجیں دنیا کے ایک بلند ترین محاذ پر مسلسل کمک پہنچا رہی ہیں، سازوسامان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر پہنچایا جا رہا ہے جبکہ چین کی جانب سے نئی تعمیرات تیزی سے جاری ہیں۔
مذاکرات ناکام، لداخ میں چینی اور بھارتی افواج کا بڑا اجتماع
چین اپنے جدید ترین ٹائپ 15 ٹینک بھارت کی سرحد پر لے آیا
چین اور بھارت کی فوجوں میں لڑائی، ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک
اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ اس ماہ کے آغاز سے ہی چین نے فائیو جی نیٹ ورک کے لیے کھدائی شروع کر دی تھی تاکہ مواصلات کا بہتر نظام قائم کر سکے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا پرانی پوزیشن پر واپس جانے کا ارادہ نہیں ہے۔
لداخ کے علاقے ڈمچاک کے قریب 5 جی نیٹ ورک پہنچنے کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ یہاں نئی تعمیرات بھی کی جا رہی ہیں، اسی طرح پینگانگ جھیل پر بھی نئے خیمے اور شیڈز تعمیر ہو رہے ہیں۔
ایل اے سی پر چینی فوجوں کی نقل و حرکت مسلسل جاری ہے، دوسری جانب بھارت بھی اپنی فوجوں کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے جس کے باعث صورتحال میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارت نے ایل اے سی پر فوجوں کی تعداد تین گنا بڑھا دی ہے، سردیوں میں اس علاقے میں فوجوں کا رہنا بہت دشوار ہوتا ہے تاہم اس بار دونوں طرف سے اس موسم میں بھی بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی کا امکان ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین پینگانگ جھیل میں پیچھے ہٹنے کو تیار ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ بھارتی افواج بھی اس جگہ سے نکل جائیں، تاہم چینی حکومت نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک تنازعہ نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اب تک کور کمانڈرز کی سطح پر مذاکرات کے 5 دور ہو چکے ہیں جبکہ سفارتی ذرائع بھی گفت و شنید میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک کوئی بھی ملک اپنی پوزیشن سے ہٹنے پر تیار نہیں ہے۔