اپریل 2017 میں کیلیفورنیا کے ایئرپورٹ کے قریب ایک غیرمعمولی ڈیزائن والا جہاز دیکھا گیا تھا جس پر عوام میں مختلف قسم کی افواہیں پھیل گئیں، فوج کی ایک ویب سائیٹ نے بعد ازاں بتایا تھا کہ یہ اوٹو ایوی ایشن کا کا بنایا ہوا نیا جہاز ہے جس کی تفصیلات خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔
ساڑھے تین برس بعد اب یہ پراسراریت ختم کر دی گئی ہے اور بلٹ جہاز کی تصاویر اور تفصیلات کمپنی کی ویب سائیٹ پر شائع کر دی گئی ہیں۔ اسے سیریلا 500 ایل کا نام دیا گیا ہے۔

یہ ایک پرائیویٹ استعمال کا ہے جس سے فضائی ٹیکسی بھی کہا جاتا ہے، اس میں 6 افراد بیٹھ سکتے ہیں مگر یہ جیٹ کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 6 گنا کم تیل استعمال کرتا ہے، اسی طرح اپنے سائز کے دیگر جہازوں کے مقابلے میں دگنی رینج کا حامل ہے۔
گولی کی شکل رکھنے والے اس جہاز کے متعلق اوٹو ایوی ایشن نے اپنی ویب سائیٹ پر بتایا ہے کہ اس کی 31 کامیاب آزمائشی پروازیں ہو چکی ہیں، اس کی پرواز سے متعلقہ صلاحیتیں 2019 میں بھی ثابت ہو گئی تھیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ایک گیلن تیل میں 18 سے 25 میل سفر کر سکتا ہے جبکہ جیٹ جہاز 2 سے 3 میل کے سفر کے لیے اتنا تیل استعمال کرتا ہے۔
اس کی پرواز پر 328 ڈالرز فی گھنٹہ اخراجات آتے ہیں اور اس جہاز کی رینج 4500 ناٹیکل میل ہے۔ یہ 460 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک پرواز کر سکتا ہے۔ یہ امریکہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بغیر دوبارہ ایندھن ڈالوائے پہنچ سکتا ہے۔

اس جہاز میں ایک کمی وسیع کھڑکیوں کی غیرموجودگی ہے جن کی جگہ ایندھن سے متعلقہ سامان کو دے دی گئی ہے۔ اس کا فریم اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ ٹیک آف کرتے وقت کم ایندھن استعمال کرے گا اور اس کی اسپیڈ بہت زیادہ ہو سکے۔
اوٹو ایوی ایشن نے بلٹ جہاز کی آزمائشی پروازیں مکمل کر لی ہیں جس کے بعد کمپنی ایف اے اے سے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کا عمل شروع کرنے والی ہے، یہ سرٹیفیکٹ ملنے کے بعد اس کی وسیع پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور آرڈرز ملنا ممکن ہو سکیں گے۔
اوٹو کا کہنا ہے کہ اس ایئر ٹیکسی کو چاٹرڈ کرانے والے اسی کرایہ میں ایک شہر سے دوسرے شہر جا سکیں گے جتنے میں وہ بڑے کمرشل جہازوں کا سفر کرتے ہیں، انہیں پرائیویٹ ایوی ایشن کی سہولت اضافی میسر ہو گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر ایف اے اے سے سرٹیفکٹ جلد مل جاتا ہے اور اور مینوفیکچرنگ کی جگہ بھی مل جاتی ہے تو 2025 میں اس کا کمرشل استعمال شروع ہو جائے گا۔