اپریل کے آخری ہفتے سے چین اور بھارت کی فوجوں کے درمیان 4057 کلومیٹر طویل لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر جھڑپیں شروع ہوئیں جو بالآخر 15 جون کی لڑائی کی صورت میں عروج پر پہنچ گئیں، مکوں، لاتوں اور راڈوں کے ذریعے ہونے والی اس لڑائی میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے اور چین نے بھارتی فوج کو پیچھے دھکیل دیا۔
اب اطلاعات آئی ہیں کہ 29 اور 30 اگست کی رات کو دونوں فوجوں کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں، بھارتی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلزلبریشن آرمی کے دستوں نے مشرقی لداخ کے علاقے میں جارحانہ نقل و حرکت شروع کی جس کے بعد لڑائی چھڑ گئی۔
چین لداخ میں 5 جی نیٹ ورک لے آیا، پینگانگ جھیل پر نئی تعمیرات شروع
چینی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے بھارتی سرحد پر ایل اے سی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ جھڑپیں پنگانگ جھیل کے اس علاقے میں ہوئی ہیں جہاں چین نے اپنی فوجی موجودگی بڑھائی ہوئی ہے اور مسلسل تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب بھارت نے بھی فوجوں کی تعداد میں بڑا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد کشیدگی کی فضا برقرار ہے، دونوں ممالک کے درمیان فوجی کمانڈروں اور سفارتی سطح پر مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں مگر ابھی تک کامیابی میسر نہیں ہوئی۔
روسی خبر رساں ادارے سپوتنک نیوز کے مطابق ایک بھارتی فوجی کا کہنا ہے کہ لڑائی میں کوئی ہتھیار استعمال نہیں ہوئے بلکہ دونوں فوجوں کے درمیان مکوں اور لاتوں کے ذریعے لڑائی ہوئی ہے۔
لائن آف ایکچوئل کنٹرول میں بہت سے مقامات پر سرحد کے غیرواضح ہونے کے باعث اس علاقے میں کئی دہائیوں سے بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔
ایل اے سی کو 1962 کی جھڑپوں کے بعد ہونے والے مذاکرات میں طے کیا گیا تھا لیکن بہت سے مقامات پر بلند پہاڑی سلسلوں کے باعث اس کی حدود متعین نہیں ہو سکی تھیں۔