اسلام آباد کے "معروف” اسپتال میں کئی ماہ قبل مشعل حسن کے والد بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے، آج سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے لاپرواہی کے مرتکب ڈاکٹر اور اسپتال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مشعل حسن کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ انہیں کمیٹی کا مکمل تعاون حاصل رہے گا۔
چیئرمین کمیٹی مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ مشعل اپنے والد کو اسلام آباد کے مشہور اسپتال معروف انٹرنیشنل میں ہارٹ اٹیک ہونے پر لے گئی، بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔
بابا کے کپڑوں کی خوشبو باقی ہے
متاثرہ خاتون مشعل حسن نے سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں اس طرح کے ہزاروں کیسز سامنے آتے ہیں مگر رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو دل کا دورہ پڑا تو وہ انہیں معروف انٹرنیشنل اسپتال لے گئیں۔ 11 بجکر40 منٹ تک کسی ڈاکٹر نے نہ چیک کیا اورنہ ہی ای سی جی کام کر رہی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپتال کے پاس ایمبولنس بھی نہیں تھی کہ دوسرے اسپتال منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اسپتال لاکھوں کا بل بناتے ہیں مگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شکایت درج کرانے کیلئے انہیں 5 ماہ لگ گئے۔ پی ایم پورٹل پر بھی شکایت کی اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری میں بھی وقت لگا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک بھر میں اس طرح کے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ دو سال سے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری قائم کی گئی اس کی کیا کارکردگی ہے؟
انسانی حقوق کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری 22 مئی2018 کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے قائم کی گئی۔ محترمہ مشعل کے معاملے کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ ادارے کو شروع سے ہی فنڈز اور دیگر مسائل کا سامنا رہا ہے۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 1488 ہیلتھ سینٹرز قائم ہیں جن میں سے 1369 پرائیوٹ اور 119 سرکاری ہیں۔ اسپتالوں کی مانیٹرنگ اور اس طرح کے کیسز کو ڈیل کرنے کیلئے یہ اتھارٹی قائم کی گئی اور اس کا ایک بورڈ بھی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بیورو کریسی متعلقہ اداروں کو اختیارات دینے کی بجائے رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔ اتھارٹی بن گئی ہے جو صرف کاغذوں تک محدود ہے۔
سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے پاس ملازمین بھی کم ہیں۔ ایک این جی او کے لوگ ایچ آر میں کام کر رہے ہیں۔ 70 ملین کا بجٹ مختص کیا گیا مگر جاری نہیں ہوا۔ مشعل کی طرح کئی لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اتھارٹی کو بنے ہوئے 2 سال ہو گئے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ مشعل کو کیا جواب دیں۔ انہوں نے اپنے والد کو کھویا ہے۔
سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ وہ ڈاکٹر جس کی اس دن ڈیوٹی تھی وہ اس حادثے کا ذمہ دار ہے۔ کمیٹی انہیں طلب کر کے تفصیلات حاصل کرے کہ جب ان کی ڈیوٹی تھی تو وہ موجود کیوں نہیں تھے؟
انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی نے تو بالکل واضح کر دیا ہے کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں۔
رکن کمیٹی سینیٹر مہر تاج روغانی نے مطالبہ کیا کہ معروف اسپتال والوں کو بلوایا جائے کیونکہ یہ سانحہ وہاں پیش آیا ہے۔
سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ ہیلتھ سیکرٹری کو بلوایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ اتھارٹی کو فنڈز کیوں نہیں فراہم کیے گئے ہیں۔
مشعل حسن نے کمیٹی کو بتایا کہ اسپتال نے کہا ہے کہ آپ ہمیں بلیک میل کر رہی ہیں۔ کیا ان کے پیسوں سے میرے والد صاحب واپس آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کے پیسوں پر لعنت بھیجتی ہوں۔
جوائنٹ سیکرٹری ہیلتھ نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی کے بجٹ کی پروپوزل بہت دیر سے آئی ہے۔ اس سال ہماری منسٹری میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اتھارٹی کو بنے ہوئے 2سال ہوگئے ہیں، اب تک کیا فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ ایگزیکٹو کی ذمہ داری تھی۔ پارلیمنٹ نے قانون بنا دیا۔ صدر پاکستان نے دستخط کر دیے۔ وزارت مکمل فیل ہو گئی۔ اپنے اختیارت بچانے کے لیے ان کو وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔
سینیٹ انسانی حقوق کمٹی نے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری صحت اور سیکرٹری خزانہ کو طلب کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملے کی انکوائری 15 اکتوبر تک مکمل کر کے 20 اکتوبر تک فراہم کر دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیکرٹری صحت اورسیکرٹری خزانہ سے آئندہ اجلاس میں پوچھا جائے گا کہ وفاقی دارالحکومت میں 1500 صحت کے سینٹر ہیں۔ جن کی مانیٹرنگ اور شکایات کے ازالے کیلئے ایک اتھارٹی بنائی گئی ہے انہیں فنڈز اور دیگر سہولیات فراہم کیوں نہیں کی جاتیں۔
سینیٹر تاج روغانی نے سوال اٹھایا کہ معروف اسپتال سے تحقیقات اتھارٹی کرے گی یا پھر ہماری کمیٹی؟ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پہلے رپورٹ آ جائے۔
سینیٹر قراۃ العین مری نے کہا کہ ڈاکٹروں کو سزا دے کر نکال دیتے ہیں۔ اسپتال والوں کا کا روبار تو ویسے ہی چلتا رہتا ہے۔
ڈاکٹر نقوی نے کمیٹی کو بتایا کہ مشعل حسن کی شکایت سے ملتی جلتی بہت ساری شکایات میری میز پر پڑی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ 20ستمبر کے بعد اس معاملہ کو دوبارہ ایجنڈا میں شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی نے مشعل حسن کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے ساتھ کمیٹی کا تعاون رہے گا۔
چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ جو باتیں انکوائری میں رہ جائیں گی وہ کمیٹی شامل کرے گی۔
مشعل حسن نے کمیٹی چیئرمین مصطفیٰ نواز کا شکریہ ادا کیا۔ مشعل حسن نے سینیر صحافی اور اینکر رؤف کلاسرا کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے یہ معاملہ منظرعام پر آیا۔