انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے کے ایچ ایم اینڈ شالان اینڈ جی ایل گروپ کو بہترین ریکروٹمنٹ کمپنیوں میں شامل کر لیا اور اپنی ویب سائیٹ پر ان کی تعارفی ویڈیو بھی لگا دی۔
اس ویڈیو میں پاکستانیوں کے لیے گلف ممالک میں روزگار کا بندوبست کرنے والے اس گروپ کے صدر خالد نواز کا کہنا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کے روزگار کے لیے بہت سی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔
کے ایچ ایم گروپ اور شالان اینڈ جی ایل کے صدر کا کہنا تھا کہ ہمارا زیادہ فوکس ان بڑے گروپس پر ہے جو مفت میں ویزا فراہم کرتے ہیں اور ہم سے بلاواسطہ یا بالواسطہ چارجز کی ڈیمانڈ نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ کم اخراجات میں اپنے لوگوں کو زیادہ زیادہ سہولیات فراہم کر سکیں۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دیگر ایجنسیوں کی نسبت ہمارا بھرتیوں کا عمل تھوڑا مختلف ہے۔ ہم کلائینٹس اور ملازمت دینے والی کمپنیوں سے براہ راست رابطے پر یقین رکھتے ہیں۔
خالد نواز کا کہنا تھا کہ کلائنٹس کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لیے فیس بک اور دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔
کے ایچ ایم گروپ اور شالان اینڈ جی ایل نے ایک ہیلپ لائن بھی قائم کی ہوئی ہے جہاں رابطہ کرنے پر ابتدائی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کلائنٹس کے ساتھ رابطوں کے لیے ایجنٹس ہائیر نہیں کرتے۔ ہم امیدوار کو ڈائریکٹ فوکس کرتے ہیں۔ سیلیکشن سے پہلے ان کو کمپنی کی ضروریات کے لیے بریف کیا جاتا ہے کہ وہ کس طرح کی ملازمت کے لیے جائیں گے اور ان کے سیلری پیکجز کیا ہیں،حتیٰ کے انہیں ملازمت کی جگہ کے ماحول اور اوقات کار کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔
سلیکشن کے بعد منتخب امیدواروں کو تین سے چار دن کی مفت ٹریننگ دی جاتی ہے۔
ٹریننگ کے حصول کے لیے آئے ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ میں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کے لیے آیا تھا ، میں یہاں کی ٹریننگ اور ماحول سے مطمئیں ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ پروفیشنل اور کوالیفائیڈ ہیں تو ایک شفاف عمل سے گزرنے کے بعد آپ اپنی نوکری کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔
یہاں ٹیسٹ ٹریننگ اور انٹرویوز کے لیے کسی قسم کی فیس نہیں لی جاتی جبکہ باہر کی مارکیٹ میں آپ سے بہت زیادہ پیسہ لیا جاتا ہے۔
خالد نواز کا کہنا تھا کہ ہم نے یہاں ایک کال سینٹر قائم کیا ہے تاکہ جو لوگ فون کال کے ذریعے معلومات حاصل کرنا چاہیں انہیں مکمل رہنمائی میسر آسکے۔
انہوں نے کہا کہ آجر خود یہاں آتے ہیں اور اپنی ضروریات کے مطابق امیدواروں کو بریفنگ دیتے ہیں اور پروفیشنل اور کوالیفائیڈ لوگوں کو منتخب کرتے ہیں اور انہیں کمپنی کے ماحول اور سیلیری پیکج کے بارے میں خود بتاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شالان اینڈ جی ایل کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں سے ہم خواتین ورکرز کو بھی مرد امیدواروں کی طرح منتخب اور بھرتی کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم خواتین کو مختلف ایئرپورٹس پر بطور اسٹاف، اسپیشل ہینڈلنگ کیئر، کسٹمر کیئر سنٹرز اور یو اے ای جیسے ممالک میں بطور ٹیکسی ڈرائیورز بھی ہائیر کرتے ہیں۔ پنک ٹیکسی صرف خواتین کے لیے ہوتی ہے تو اس کے لیے صرف خواتین ڈرائیورز کو ہی ہائیر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا ہمارے حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک پر بھی فوکس کریں تاکہ ان ملکوں میں بھی ہماری لیبر سے متعلق ساکھ بھی ہہتر ہو۔
انہوں نے وزارت اوورسیز سے مدد کی درخواست کی جو انہیں یورپی ممالک میں بھی متعارف کرائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان ممالک میں کافی پابندیاں ہیں جس کی وجہ سے ہم پاکستان سے بھرتیاں نہیں کر سکتے۔
انہوں نے متعلقہ حکومتی اداروں سے درخواست کی کہ وہ کنسٹرکشن، سیکیورٹی گارڈز اور ٹیکسی ڈرائیورز کے علاوہ بھی باقی سیکٹرز میں بھی لوگوں کو لائیں۔