سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پرپارک لین اور ٹھٹھہ واٹر سپلائی ضمنی ریفرنسز میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے آج کیس کی سماعت کی جس میں سابق صدر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔
کیس کی سماعت کے آغاز پر جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تمام ملزم موجود ہیں اس لیے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کرتے ہیں۔
اس دوران پارک لین ضمنی ریفرنس کے دیگر ملزمان کو بھی فرد جرم کی نقول فراہم کی گئیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے صحت جرم سے انکار کردیا۔
بعدازاں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایسے مقدمات ہم نے پہلے بھی دیکھے ہوئے ہیں، جب بھی ہم اپوزیشن میں ہوتے ہیں ایسے مقدمات بنا لیے جاتے ہیں۔
خواجہ آصف سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات کا مقاصد اپوزیشن کو تقسیم کرنا ہے، انہوں نے کسی کے کہنے پر ہی ایسا بیان دیا ہو گا۔
خیال رہے کہ ٹھٹھہ واٹرسپلائی ریفرنس میں نوڈیرو ہاؤس کےانچارج ندیم بھٹو کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جس سے بعد ازاں تفتیش کرنے کے بعد آصف زرداری کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔
ریفرنس میں بتایا گیا ہے کہ ٹھٹھہ واٹرسپلائی کےغیرقانونی ٹھیکے دیئے گئے، ٹھیکوں کے نتیجے میں رقم جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ندیم بھٹو کے اکاؤنٹس میں آتی رہی اور ندیم بھٹو اس رقم سے نوڈیرو ہاؤس کا انتظام چلاتے رہے۔
پارک لین ریفرنس میں آصف علی زرداری پر جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے قومی خزانے کو 3 ارب 77 کروڑ روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ ریفرنس میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر عثمان سیف اللہ، انور سیف اللہ اور سلیم سیف اللہ سمیت دیگر ملزمان بھی نامزد ہیں۔
نیب ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں خریدی گئی تقریباً ڈھائی ہزار کنال زمین کی اصل مالیت دو ارب روپے ہے لیکن اسے صرف 62 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔