فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا ورچوئل اجلاس 21 سے 23 اکتوبر تک طلب کر لیا گیا ہے جس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہو گا۔
ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت پر کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
اس سے قبل پاکستان کو ایف اے ٹی یف کی شرائط پوری کرنے کے لیے مزید 4 ماہ کا وقت مل گیا تھا تاہم اگر پاکستان گرے لسٹ سے نہ نکلا تو 10 نکات پر مزید عمل درآمد کے لیے کہا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق جائزہ گروپ کو بقیہ 13 نکات پر تعمیل کی تفصیل جمع کرائی جا چکی ہے۔
حال ہی میں اس حوالے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ضروری قانون سازی بھی کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کو جون 2018 میں اسٹریٹجک خامیوں کی وجہ سے گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ گذشتہ اجلاس تک پاکستان 27 نکاتی ایکشن پلان میں سے 14 پر عملدرآمد کرچکا تھا۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پلانری اجلاس جون میں ہونا تھا تاہم کورونا کے باعث عالمی ادارے کے جائزے اور ڈیڈ لائنز ملتوی کردی گئی تھیں۔