پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مجرمانہ سازش، بغاوت اور لوگوں کو اکسانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف لندن سے اشتعال انگیز تقاریر کر رہے ہیں اور سازش کے تحت پاکستان اور اس کے مقتدر اداروں کو بدنام کر رہے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق عدالتوں سے سزایافتہ مجرم نواز شریف نے اپنے دو خطابات میں بھارتی پالیسی کو اپنایا جس کا مقصد پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنا تھا۔
ایف آئی آر میں راجا ظفرالحق، ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، احسن اقبال، خواجہ آصف اور رانا ثنااللہ سمیت دیگر رہنماؤں کو بھی تقریر کی تائید کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔
یہ ایف آئی آر لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں شہری بدر رشید کی مدعیت میں درج ہوئی ہے جس میں نواز شریف اور دیگر کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 121، 121 اے (پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش)، 123 اے ( ملک کی تشکیل کی مذمت اور اس کے وقار کو ختم کرنے کی حمایت)، 124 اے (بغاوت)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کا فروغ) اور 505 اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی شق 10 تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مریم نواز شریف اور دیگر ن لیگی رہنماؤں کا نواز شریف کی تقاریر کی تائید کرنا قانون کی گرفت میں آتا ہے، لہٰذا نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے خلاف تعزیرات پاکستان اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے۔