سین ورلڈ گروپ نے یونائیٹڈ اسٹیٹس اور برطانیہ میں اپنے تمام سینما اور تھیٹرز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
دنیا بھر میں فلموں کی نمائش سے متعلق دوسرے بڑے سینما گروپ سین ورلڈ کی جانب سے سینما اور تھیٹرز بند کرنے سے 45 ہزار ملازمین بیروزگار ہو جائیں گے۔
ریگل سینما کی ملکیت میں موجود سین ورلڈ کی جانب سے یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جیمز بانڈ کی نئی آنے والی ‘فلم نو ٹائم ٹو ڈائے’ کی نمائش کو اگلے سال تک موخر کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے اس سے قبل کمپنی کی جانب سے پیر کو ریلیز کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ کورونا کی وبا کے بعد اپنے کسٹمرز کے لیے کمرشل فلمیں سامنے نہیں لا پائے۔
سین گروپ کے امریکہ میں 536 اور برطانیہ میں 127 تھیٹرز ہیں جن میں پکچر ہاوس سینما بھی شامل ہیں۔
کمپنی کی جانب سے تھیٹرز بند کرنے کے فیصلے کے بعد سین گروپ کی بقا ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے، برطانیہ میں گروپ کے شیئرز کی قیمت 42 فیصد گر گئی ہے۔
تھیٹرز اور سینما بند کرنے کی خبر نے سین ورلڈ کے ملازمین اور اسٹاف کر حیران کر دیا ہے، سین ورلڈ کی ملکیت سینما ایکشن گروپ کی جانب سے ٹویٹر پیغام میں بتایا گیا ہے کہ فیصلہ لیے جانے سے قبل اسٹاف سے کوئی بات نہیں کی گئی۔
اس سے قبل کورونا لاک ڈاون کے دوران بھی سین گروپ نے کی ماہ تک اپنا کام بند رکھا تھا۔ گروپ نے جولائی میں مکمل ایس او پیز کے ساتھ اپنے تھیٹر عوام کے لیے کھول دیے تھے۔
پیر کے روز دی جانے والی بریفنگ میں کمپنی نے تھیٹرز کو دوبارہ کھولے جانے کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا۔
سین گروپ کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ہم حالات کو باریک بینی کے ساتھ جانچ رہے ہیں اور ان مارکیٹس میں اپنے تھیٹرز کو دوبارہ کھولے جانے کے فیصلے کو اپنے وقت پر بتا دیا جائے گا۔
گزشتہ ماہ سین ورلڈ نے رواں سال کے پہلے چھے مہینوں میں ایک اعشاریہ چھے بلین ڈالر کا نقصان ہونے کا انکشاف کیا، جب کے کورونا کی دوسری لہر کی صورت میں فنڈز کی شدید کمی کے لیے وارننگ بھی جاری کی تھی۔