لاہور: موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی نے پولیس کی تفتیش کے دوران اہم انکشافات کیے ہیں۔
سی آئی اے لاہور کو اس نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں شفقت اور بالا مستری کے ساتھ 9 ستمبر کو ڈکیتی کے ارادے سے کورول گاؤں سے نکلے۔
عابد ملہی کے مطابق بالا مستری رستے میں واپس چلا گیا جبکہ شفقت اور وہ کورول جنگل میں چلے گئے جہاں انہوں نے دو تین ٹریکٹر ٹرالی والوں کو لوٹا۔
خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کے متعلق اس نے بتایا کہ وہ موٹروے پر پہنچے تو وہاں ایک گاڑی کھڑی دیکھی جس کے انڈیکیٹر جل رہے تھے۔
عابد نے کہا کہ انہوں نے گاڑی کے اندر خاتون اور بچوں کو دیکھا تو انہیں باہر آنے کا کہا مگر خاتون نے انکار کر دیا جس پر انہوں نے شیشہ توڑ کر انہیں زبردستی باہر نکال لیا۔
ملزم نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے انہوں نے خاتون سے زیورات اور رقم لوٹی اور پھر اسے موٹر وے سے نیچے جانے کا کہا مگر اس نے انکار کیا جس پر وہ زبردستی بچوں کو ساتھ لے گئے۔
عابد ملہی کے مطابق اپنے بچوں کو بچانے کے لیے خاتون بھی موٹروے سے نیچے آنے پر مجبور ہو گئی جہاں دونوں ملزمان نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ملزم نے کہا کہ جب ڈولفن فورس والے وہاں پہنچے اور انہوں نے فائرنگ کی تو شفقت اور وہ دونوں اس جگہ سے بھاگ نکلے، عابد ملہی ننکانہ صاحب جبکہ شفقت دیپالپور چلا گیا۔
ملزم نے کہا کہ جب معاملہ میڈیا میں آیا تو وہ اپنے گاؤں سے فرار ہو گیا اور مستقل طور پر شہر اور ٹھکانے بدلتا رہا، آخرکار اسے پولیس نے گرفتار کر لیا۔