• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کراچی کی بجلی ممبئی سے چلائی جا رہی ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ

by sohail
اکتوبر 13, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ میں سندھ میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وفاق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا، کراچی کی بجلی ممبئی سے چلائی جائی رہی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت نہ ہی صوبائی حکومت کچھ کر رہی ہے، لوگوں کو ہائی جیک کیا ہوا ہے، حکومت میں صلاحیت ہی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو چاہے حکومتی اداروں کا استحصال کرتا ہے، کوئی روکنے والا نہیں، سارا ملک پریشان ہے، حکومت کی کمزوری سے سب ادارے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سب رپورٹس پڑھ لی ہیں، ان میں کچھ بھی نہیں، کراچی میں بجلی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

اس موقع پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کراچی اتنا پھیل گیا مگر بجلی کی پیداوار نہیں بڑھائی گئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دائیں بائیں ہر طرف سے حکومت کا استحصال کیا جا رہا ہے، کے الیکٹرک کے سرمایہ کاروں پر ہمیں تحفظات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا اور پاور ڈویژن کے تمام ملازمین کو فارغ کر دیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ 9 شیئر ہولڈرز کون ہیں جو فریق بننا چاہتے ہیں؟

یہ چیئرمین شان عشری کون ہے؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیئرمین شان عشری کون ہے؟ کیا یہ پاکستانی ہے؟

شان عشری عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میرا پورا نام شان عباس عشری ہے، میں پاکستانی ہوں، براہ کرم میری وفاداری پر شک نہ کریں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ پاکستان سے وفادار ہوتے تو کے الیکٹرک اور عوام کا یہ حال نہ ہوتا۔

شان عباس عشری نے کہا کہ کے الیکٹرک میں سعودی عرب اور کویت سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے 4 سو ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہو گی، ان کی پشت پر کوئی اور ہے، یوں لگتا ہے کہ آخر میں اس کمپنی کے تانے بانے بمبئی سے نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں کس کو کتنی بجلی ملے گی اس کا کنٹرول بمبئی سے چلایا جا رہا ہے، کے الیکٹرک کے معاملے پر لوگوں کے ذاتی مفادات سامنے آگئے ہیں۔

انہوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب ہو کر کہا کہ آپ سے کچھ نہیں ہونا، اس پر اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ ہمیں وقت دیا جائے، سب بہتر ہو جائے گا، ہم ان چیمبر بریفنگ دینا چاہتے ہیں۔

ڈسکوز کی اجارہ داری

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں ہیٹ ویو چل رہی ہوتی ہے مگر بجلی نہیں ہوتی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کراچی میں کے الیکٹرک کی اجاراداری ختم ہوگی تو سب بہتر ہوگا۔

فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام ڈسکوز کی ملک میں اجارہ داری ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نیپرا میں شور شرابا کر کے میٹنگ ختم کرا دی جاتی ہے۔ اس پر چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ہم کراچی میں مقابلے کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نقصان والے علاقے دیں گے تو کوئی سرمایہ کار نہیں آئے گا، ہمارے پاس کے الیکٹرک کے لیے منتظم رکھنے کا اختیار ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نجکاری کے وقت بجلی کی پیداوار، تقسیم اور دیگر مراحل کے الیکٹرک کو دے دیئے گئے, انہون نے اعتراف کیا کہ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔

کے الیکٹرک کی نجکاری کے پیسے کہاں گئے؟

اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کے پیسے کہاں گئے، چیئرمین نیپرا نے کہا کہ یہ بات نجکاری کمیشن والے ہی بتا سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ کے الیکٹرک ایک پروفیشنل کمپنی نہیں ہے، یہ صرف پیسے بنا رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کے الیکٹرک 9 ارب تک مارک اپ کا مسئلہ حل کرانا چاہتی ہے، اس معاملے پر ان چیمبر بریفنگ دینا چاہتے ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اگر مقابلے کی فضا بنا رہے ہیں تو ایسے معاہدے کریں جو حکومت کے حق میں ہوں،  ریکوڈک کے معاہدے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

ریاست کے اندر ریاست

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک میں چند افراد کی کھچڑی بنی ہوئی ہے، ان لوگوں کو سامنے لانا ہوگا، ایسی خراب صورتحال میں شنگھائی الیکٹرک والے کیوں آئیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شنگھائی الیکٹرک والے اس صورتحال میں بھی آنا چاہتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ آتے ہیں تو ان کی اپنی شرائط ہوں گی اور پھر ریاست کے اندر ایک ریاست بن جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ شنگھائی الیکٹرک والے اپنی بات منوائیں گے۔

سکرٹری پاور ڈویژن نے عدالت کر بتایا کہ میرا تبادلہ غربت کے خاتمے والے ڈویژن سے ہوا ہے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب یہ جناب پاور کے معاملات کو دیکھیں گے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے مداخلت کی اور عدالت سے استدعا کی کہ ان چیمبر بریفنگ لی جائے، ہم اسد عمر، عمر ایوب اور دیگر حکومتی وزراء اور مشیروں کو بلائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے تابش گوہر کو مشیر مقرر کیا ہے، اس کے جواب میں وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تابش گوہر کے تانے بانے کے الیکٹرک سے ملتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی شہر کا ہر ادارہ ختم ہو چکا ہے، عوام کو کوئی سروس نہیں مل رہی، کراچی میں پولیس والا جہاں کھڑا ہوتا ہے وہاں کا بادشاہ ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم پتھر کے دور میں جی رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ الیکٹرک ٹربیونل دو ہفتوں میں تشکیل دے کر رپورٹ پیش کی جائے، عدالت نے اٹارنی جنرل کی ان چیمبر بریفنگ دینے کی استدعا بھی منظور کر لی جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے بریفنگ دینے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔

Tags: چیف جسٹس گلزار احمدسپریم کورٹ آف پاکستانکے الیکٹرک
sohail

sohail

Next Post

سینیٹ کمیٹی میں جعلی نوٹوں، کرپٹوکرنسی کی باز گشت، اصل ماجرا کیا ہے؟

رحمان ملک، سنتھیا رچی کا معاملہ، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

کورونا اور بیروزگاری، بھارت میں چائلڈ لیبر کی شرح میں خطرناک اضافہ

نوازشریف کی لندن میں چہل قدمی، شکایت پر برطانوی پولیس حرکت میں آ گئی

دنیا میں پانچواں شخص دوسری بار کورونا کا شکار، ہرڈ ایمیونٹی پر سوالیہ نشان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In